Return to Video

The Internet: Cybersecurity & Crime

  • 0:02 - 0:07
    انٹرنیٹ: سائبرسیکیوریٹی اور جرائم
  • 0:07 - 0:11
    سلام، میں جینی مارٹن، سائبر
    سیکیورٹی تفتیشکار ہوں
  • 0:11 - 0:16
    Symantec کمپنی میں. آج سائبر کرائم
    بہت بڑی پریشانیوں کا باعث ہے
  • 0:16 - 0:23
    معاشرتی، مالی، اور یہاں تک کہ قومی سلامتی
    کے معاملات میں۔ صرف حالیہ سالوں میں،
  • 0:23 - 0:27
    دسیوں لاکھوں کریڈٹ کارڈ نمبر
    چوری ہوچکے ہیں،
  • 0:27 - 0:31
    دسیوں لاکھوں سماجی تحفظ نمبر اور
    صحت کی دیکھ بھال کے ریکارڈ
  • 0:31 - 0:35
    غیرمحفوظ ہوئے، یہاں تک کہ جوہری
    سینٹرفیوج ہیک ہوئے،
  • 0:35 - 0:40
    اور کئی خودکار ڈرون اغوا ہوئے ہیں۔ یہ سب
    ہارڈ اور سافٹ ویئر سسٹمز میں کمزوریوں سے
  • 0:40 - 0:45
    یا استعمال کرنے والوں کے
    غیر ارادی فیصلوں سے
  • 0:45 - 0:53
    فائدہ اٹھا کر کیا گیا ہے۔ سائبر مجرم
    ایک طرح کا
  • 0:53 - 0:58
    پروفائل یا مقصد نہیں رکھتے۔
    یہ کوئی بھی ہو سکتا ہے
  • 0:58 - 1:03
    جیسے بین الاقوامی دہشت گرد یا نوجوان جو
    اپنا سکہ جما رہا ہو۔ آج بڑے ممالک کے پاس
  • 1:03 - 1:09
    نہ صرف باقاعدہ فوج ہوتی ہے بلکہ مسلح
    سائبر آرمی بھی ہوتی ہے۔ اصلا، اگلی
  • 1:09 - 1:12
    عالمی جنگ شاید روایتی ہتھیاروں سے
    نہ لڑی جائے، بلکہ
  • 1:12 - 1:17
    کمپیوٹروں کے ساتھ جو پانی کی
    فراہمی، توانائی کے گرڈ، اور
  • 1:17 - 1:25
    نقل و حمل بند کرے. ہائے، میں پاریسہ گوگل
    سیکیورٹی راجکماری ہوں۔ میں نے بہت سے مختلف
  • 1:25 - 1:30
    پروڈکٹس اور مختلف طریقوں پر
    کام کیا ہے تاکہ ہمارے سافٹویئر
  • 1:30 - 1:34
    حتی الامکان محفوظ بن جائیں۔
  • 1:34 - 1:37
    آئیں دیکھیں کہ سائبر جرائم
    کیسے کیے جاتے ہیں،
  • 1:37 - 1:41
    اور سافٹ ویئر وائرس، سروس سے
    انکار کے حملے، اور فشنگ کے
  • 1:41 - 1:46
    فراڈ کیسے ہوتے ہیں۔ حیاتیات اور زندگی میں،
    وائرس حیاتیات ہے جو کھانسی،
  • 1:46 - 1:49
    چھینک ، یا جسمانی رابطہ سے پھیلتا ہے۔
  • 1:49 - 1:53
    وائرس خلیوں کو متاثر کرکے، ان کے
    جینیاتی مواد کے اندر جا کر اور
  • 1:53 - 1:59
    ان خلیوں کا استعمال کر کے پھیلتے ہیں۔
    وہ لوگوں کو بیمار کر کے مزید پھیلتے ہیں۔
  • 1:59 - 2:04
    ایک کمپیوٹر وائرس تقریبا اسی طرح کام
    کرتا ہے۔ ایک وائرس ایک قابل عمل پروگرام
  • 2:04 - 2:10
    ہے جوعموما غیر ارادتا انسٹال ہو کر
    صارف اور کمپیوٹر کو نقصان پہنچاتا ہے۔
  • 2:10 - 2:16
    وائرس ایک کمپیوٹر سے دوسرے
    کمپیوٹر تک پھیل سکتا ہے۔ اچھا، وائرس آپ کے
  • 2:16 - 2:20
    کمپیوٹر میں آتا کیسے ہے؟ ایک حملہ آور
    کے پاس کسی کا کمپیوٹر متعفن کرنے
  • 2:20 - 2:25
    کے دو طریقے ہیں۔ وہ متاثرہ شخص کو پروگرام
    کے مقصد کے بارے میں دھوکہ دے کر اپنا
  • 2:25 - 2:29
    پروگرام انسٹال کرواتے ہیں، لہذا بہت سے
    وائرس سیکیورٹی اپ ڈیٹ کی بھیس میں آتے ہیں۔
  • 2:29 - 2:36
    شاید آپ کے کمپیوٹر پر موجود
    سافٹ وئیر میں کمزوری ہے، لہذا
  • 2:36 - 2:39
    حملہ آور واضح اجازت کے بغیر
    کمپیوٹر میں نسٹال ہو جاتا ہے۔
  • 2:39 - 2:44
    ایک بار جب آپ کے کمپیوٹر پر وائرس آجاتا ہے
    تو وہ فائلوں کو چوری یا ڈیلیٹ،
  • 2:44 - 2:48
    دوسرے پروگراموں کو کنٹرول،
    یا یہاں تک کہ آپ کا کمپیوٹر دور سے
  • 2:48 - 2:50
    کنٹرول کر سکتا ہے۔
  • 2:50 - 2:56
    ہیکرز وائرس کے ذریعے دنیا کے لاکھوں
    کمپیوٹرز کنٹرول میں لے سکتے ہیں
  • 2:56 - 3:01
    اور پھر اس ڈیجیٹل فوج، یعنی باٹ نٹ،
    سے ویٹ سائٹوں پر حملہ کرتے یا ہٹاتے ہیں۔
  • 3:01 - 3:07
    اس قسم کے حملے کو خدمت سے محرومی
    کے منقسم حملے کہتے ہیں۔
  • 3:07 - 3:10
    جب ہیکرز کثیردرخواستوں کے ذریعے
    اس ویب سائٹ پر غالب آ جاتے ہیں،
  • 3:10 - 3:15
    تو اسے خدمت سے محرومی اور جب حملہ
    بہت سارے کمپیوٹروں سے آئے، تو اسے خدمت
  • 3:15 - 3:17
    سے محرومی کا حملہ کہتے ہیں۔
  • 3:17 - 3:22
    اکثر ویب سائٹ دن میں لاکھوں درخواستیں
    پوری کر سکتے ہیں، لیکن اگر آپ
  • 3:22 - 3:25
    کو مختلف مقامات سے اربوں یا کھربوں
    درخواستوں سے نشانہ بنایا جائے،
  • 3:25 - 3:32
    کمپیوٹرز اوورلوڈ ہو کرجواب دینا چھوڑ
    دیتے ہیں۔ سائبر مجرموں کی ایک اور چال
  • 3:32 - 3:36
    لوگوں کو بڑی مقدار میں ایمیل بھیجنا ہے
  • 3:36 - 3:39
    تاکہ لوگ حساس ذاتی معلومات دیں۔
  • 3:39 - 3:45
    اسے فشینگ اسکام کہتے ہیں۔ فشنگ یعنی
    جب آپ کو بظاہر قابل بھروسہ
  • 3:45 - 3:50
    ایمیل میں آئے کہ اکاؤنٹ میں
    لاگ ان کریں، لیکن ایمیل پر کلک
  • 3:50 - 3:52
    آپ کو ایک جعلی ویب سائٹ پر لے جائے۔
  • 3:52 - 3:56
    آپ کو لاگ ان کروانے سے ان کا
    مقصد پاسورڈ لکھوانا ہوتا ہے۔
  • 3:56 - 4:00
    پھر ہیکرز آپ کے حقیقی اکاؤنٹس تک رسائی
    کے لئے انہی اسناد کا استعمال کرسکتے ہیں
  • 4:00 - 4:06
    تاکہ آپ کے معلومات یا شاید پیسے
    چوری کر لیں۔ خوش قسمتی سے
  • 4:06 - 4:10
    بہت سی کمپنیاں، قوانین، اور سرکاری
    تنظیمیں انٹرنٹ محفوظ بنانے کے لئے
  • 4:10 - 4:15
    کام کر رہی ہیں، لیکن یہ کافی نہیں۔
  • 4:15 - 4:18
    آپ سوچتے ہونگے کہ جب کمپیوٹر سسٹم
    ہیک ہوجاتا ہے تو مسلہ سیکیوریٹی
  • 4:18 - 4:23
    ڈیزائن یا سافٹ ویئر تھا۔ لیکن نوے
    فیصد سسٹم ہیک
  • 4:23 - 4:27
    سیکیورٹی bug کی وجہ سے نہیں،
    بلکہ سادہ انسانی غلطی
  • 4:27 - 4:35
    کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ آپ کچھ
    حفاظتی اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔ اکثر
  • 4:35 - 4:39
    آپ کے اقدامات سے نہ صرف آپ کا ڈاٹا
    اور کمپیوٹر غیر محفوظ ہوتے ہیں، بلکہ
  • 4:39 - 4:42
    آپ کے اسکول، دفتر اور گھر میں
  • 4:42 - 4:47
    ہر ایک کی حفاظت بھی۔ چونکہ
    اربوں یا کھربوں ڈالر داؤ پر لگے ہوتے ہیں
  • 4:47 - 4:52
    سائبر مجرم ہر سال ہوشیار تر ہو رہے ہیں
    اور ہم سب کو باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔
Title:
The Internet: Cybersecurity & Crime
Description:

more » « less
Video Language:
English
Duration:
05:02

Urdu subtitles

Revisions Compare revisions