< Return to Video

ہمارے وہ کام، جو مشینیں کیا کریں گی۔۔۔اور وہ، جو نہیں کرسکیں گی

  • 0:01 - 0:02
    دیکھیے!
    یہ میری بھتیجی ہے۔
  • 0:03 - 0:04
    اس کا نام یہلی ہے۔
  • 0:04 - 0:06
    یہ نو مہینے کی ہے۔
  • 0:06 - 0:09
    اس کی امی ایک ڈاکٹر ہیں
    اور ابو وکیل ہیں۔
  • 0:09 - 0:11
    جب یہلی کے کالج جانے کا دور آئے گا،
  • 0:11 - 0:15
    تو جو کام اس کے والدین اب کرتے ہیں،
    ان کی نوعیت ڈرامائی طور پر بدل جائے گی۔
  • 0:15 - 0:20
    سن 2013 میں، آکسفورڈ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے "کام کے مستقبل" کے بارے میں ایک مطالعہ کیا۔
  • 0:21 - 0:25
    انہوں نے اخذ کیا کہ ہر دو میں سے ایک پیشہ
  • 0:25 - 0:27
    خودکار مشینوں کی وجہ سے بیت خطرے میں ہے۔
  • 0:28 - 0:30
    "مشین لرننگ" ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے
  • 0:30 - 0:33
    جو اس تبدیلی کا بڑا سبب ہے۔
  • 0:33 - 0:35
    یہ مصنوعی ذہانت کا انتہائی طاقتور شعبہ ہے۔
  • 0:35 - 0:37
    یہ مشینوں کو اعدادوشمار کے ذریعے سکھاتا ہے
  • 0:37 - 0:40
    کہ وہ انسانوں کی طرح بہت سے کام کر سکیں۔
  • 0:40 - 0:43
    میری کمپنی، کیگل، مشین لرننگ کےاگلے محاذوں پہ کام کرتی ہے۔
  • 0:43 - 0:46
    ہم لاکھوں ماہرین کی مدد سے
  • 0:46 - 0:49
    صنعت اور تعلیم کے اہم مسائل کوحل کرتے ہیں۔
  • 0:49 - 0:53
    اس سے ہمیں ایک انوکھا اندازِ نظر ملتا ہے
  • 0:53 - 0:54
    کہ مشینیں کیا کر سکتی ہیں اور کیا نہیں۔
  • 0:54 - 0:57
    اور کن کاموں کو وہ خودکار یا
    ختم کر دیں گی۔
  • 0:57 - 1:01
    شعبہ صنعت میں مشین لرننگ کا ظہور
    نوے کی دہائی کے آغاز میں ہوا۔
  • 1:01 - 1:03
    شروع میں اس نے چھوٹے چحوٹے کام کیے۔
  • 1:03 - 1:08
    مثلا قرضے کی درخواستوں میں سے
    رقم واپسی کے امکان کا اندازہ،
  • 1:08 - 1:12
    اور ڈاک کے لفافوں پہ ہاتھ سے لکھے ہوئے
    ڈاکخانہ نمبر پڑھ کر۔
  • 1:12 - 1:15
    گزشتہ کچھ سالوں میں ہم نے
    بڑی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔
  • 1:16 - 1:20
    مشین لرننگ اب بہت زیادہ پیچیدہ
    کام کر سکتی ہے۔
  • 1:20 - 1:23
    2012 میں کیگل نے اپنے ماہرین کو
    ایسا الگرتھم بنانے کاچیلنج دیا
  • 1:23 - 1:26
    کہ وہ ہائی سکول کے طلباء کےمضامین
    کی درجہ بندی کریں۔
  • 1:26 - 1:29
    جیتنے والے الگرتھم کے نتائج انسانی
  • 1:29 - 1:31
    اساتذہ کے نتائج کی طرح کے تھے۔
  • 1:31 - 1:34
    پچھلے سال ہم نے اس سے بھی مشکل چیلنج دیا۔
  • 1:34 - 1:37
    کیا آپ آنکھ کی تصویر لے کر اس کی
    بیماری کی تشخیص کر سکتے ہیں
  • 1:37 - 1:39
    جس کا نام زیابیطسی ریٹنوپیتھی ہے؟
  • 1:39 - 1:43
    اس بار بھی جیتنے والے الگرتھم کے نتائج
  • 1:43 - 1:45
    انسانی ماہرِ چشم سے ملتے جلتے تھے۔
  • 1:46 - 1:49
    اور اب تو ڈیٹا کی مدد سے مشینیں
    ایسے کاموں میں
  • 1:49 - 1:50
    انسانوں سےاچھی کارکردگی
    دینے لگی ہیں۔
  • 1:50 - 1:54
    ایک استاد شاید اپنی چالیس سالہ پیشہ ورانہ
    زندگی میں 10,000 مضامین پڑھ سکے۔
  • 1:54 - 1:57
    اور آنکھوں کا ڈاکٹر شاید 50,000
    آنکھیں دیکھ سکے۔
  • 1:57 - 2:01
    مگر ایک مشین چند منٹوں میں لاکھوں
    مضامین پڑھ سکتی ہے،
  • 2:01 - 2:02
    یا لاکھوں آنکھوں کا معائنہ
    کر سکتی ہے۔
  • 2:02 - 2:05
    ہم کسی طور بھی بار بار کیے جانے والے
    ضخیم کاموں میں
  • 2:05 - 2:08
    مشینوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
  • 2:09 - 2:12
    مگر کچھ کام ایسے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں
    مگر مشینیں نہیں۔
  • 2:13 - 2:15
    جن کاموں میں مشینوں نے کم ترقی کی ہے
  • 2:15 - 2:17
    ان میں " نت نئی مشکلات کا سامنا کرنا"
    شامل ہیں۔
  • 2:17 - 2:21
    وہ ایسے مسئلے حل نہیں کر سکتیں،
    جو انہوں نے پہلے نہ دیکھے ہوں۔
  • 2:21 - 2:24
    مشین لرننگ کی بنیادی حدود یہ ہیں کہ
  • 2:24 - 2:27
    انہیں سیکھنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں
    ماضی کے اعداد و شمار چاہیں
  • 2:27 - 2:29
    مگر، انسانوں کو نہیں۔
  • 2:29 - 2:32
    ہم میں صلاحیت ہے کہ ہم بظاہر
    بے تعلق دکھائی دینے والے
  • 2:32 - 2:34
    تانے جوڑ کر نئے مسئلے حل کر لیتے ہیں۔
  • 2:35 - 2:39
    دوسری جنگِ عظیم میں "پرسی سپینسر" نامی
    ماہرِ طبعیات ریڈار پر کام کر رہا تھا
  • 2:39 - 2:42
    جب اس نے غور کیا کہ "میگنوٹرون"
    اس کی چاکلیٹ کو پگھلا رہا ہے۔
  • 2:43 - 2:46
    یوں وہ برقی-مقناطیسی شعاؤں کو
    سمجھنے کے قابل ہوا۔
  • 2:46 - 2:48
    اور اپنے کھانا پکانے کے تجربے سے
  • 2:48 - 2:51
    وہ بھلا کیا ایجاد کرنے کے قابل ہوا؟
    مائکرو ویو اوون۔۔!
  • 2:51 - 2:55
    تو، یہ تخلیق کی انتہائی شاندار مثال ہے۔
  • 2:55 - 2:58
    مگر اس قسم کی کامیابی چھوٹے چھوٹے
  • 2:58 - 3:00
    حصوں میں ہم سب کو روزانہ
    ہزاروں دفعہ ملتی ہے۔
  • 3:01 - 3:02
    مشین تب ہمارامقابلہ نہیں کرسکتیں
  • 3:02 - 3:04
    جب نئے مسئلے سے نمٹنے کی بات آتی ہے
  • 3:04 - 3:08
    اور اس وجہ سے ان کاموں کی حد بندی ہوتی ہے
  • 3:08 - 3:09
    جو خود کار مشینیں کر سکتی ہوں۔
  • 3:10 - 3:12
    تو "کام کے مستقبل" کے بارے میں کیا
    کہا جا سکتا ہے؟
  • 3:13 - 3:17
    کسی بھی پیشے کے مستقبل کا فیصلہ
    ایک سوال کا جواب کر سکتا ہے
  • 3:17 - 3:22
    کہ یہ پیشہ کس حد تک بار بار کیے جانے والے
    ضخیم کاموں کا مجموعہ ہے
  • 3:22 - 3:26
    اور اس میں کس حد تک نئے مسئلے
    حل کرنا پڑتے ہیں؟
  • 3:26 - 3:30
    بار بار کیے جانے والےضخیم کام کرنے میں
    مشینیں ہوشیار ہوتی جا رہی ہیں۔
  • 3:30 - 3:33
    آج کل وہ مضامین چیک کر لیتی ہیں
    اور کچھ امراض کی تشخیص کر سکتی ہیں۔
  • 3:33 - 3:36
    آنے والے سالوں میں وہ آڈٹ بھی کر سکیں گی
  • 3:36 - 3:39
    اورقانونی معاہدوں میں عرضیاں
    بھی پڑھ سکیں گی۔
  • 3:39 - 3:41
    مگر اکاؤنٹنٹ اور وکلاء ابھی بھی چاہیں۔
  • 3:41 - 3:44
    وہ قانون سےمتصادم ہوتی کاروائیوں کے لیے
  • 3:44 - 3:45
    پیچیدہ قسم کی ٹیکس سازی کر سکیں گے۔
  • 3:45 - 3:47
    لیکن مشینیں ان کے عہدوں کو تنگ کر کے
  • 3:47 - 3:49
    ان کے لیے صرف مشکل کام چھوڑ دیں گی۔
  • 3:49 - 3:50
    اب، جیسا کہ میں نے بیان کیا
  • 3:50 - 3:53
    مشینیں نت نئے مسئلوں کو حل نہیں کر سکتیں۔
  • 3:53 - 3:56
    کسی بھی تشہیری مہم کا مقصد گاہک
    کی توجہ کھینچنا ہوتا ہے۔
  • 3:56 - 3:58
    اسے مجمع سے الگ دکھائی دینا ہوتا ہے۔
  • 3:58 - 4:01
    کاروباری پلان کا مطلب ہوتا ہے کہ منڈی میں
    خلا تلاش کیا جائے
  • 4:01 - 4:02
    وہ کام، جو کوئی نہیں کر۔رہا۔
  • 4:02 - 4:06
    یہ انسان ہوں گے جو ہماری تشہیری مہم کا
    ڈھانچہ بنایا کریں گے۔
  • 4:06 - 4:10
    اور کاروباری پلان بھی انسان ہی
    بنایا کریں گے۔
  • 4:10 - 4:13
    چنانچہ یہلی!
    تم جو بھی فیصلہ کرو،
  • 4:13 - 4:15
    مگر اپنے آنے والے ہر دن میں ایک نیا
    ہدف قائم کرو۔
  • 4:16 - 4:18
    اگر ایسا ہو جائے
    تو تم مشینوں سے آگے رہو گی۔
  • 4:19 - 4:20
    شکریہ۔
  • 4:20 - 4:23
    (تالیاں)
Title:
ہمارے وہ کام، جو مشینیں کیا کریں گی۔۔۔اور وہ، جو نہیں کرسکیں گی
Speaker:
انتھونی گولڈ بلوم
Description:

مشین لرننگ اب صرف ان سادہ کاموں کے لیے نہیں ہے جیسے قرض واپسی کے امکانات کا جائزہ لینا یا ڈاک چھانٹنا۔۔۔اب یہ زیادہ پیچیدہ کام کر سکتی ہیں جیسے مضامین کی درجہ بندی یا امراض کی تشخیص۔ اس ترقی کے ساتھ ہی ایک سوال پیدا ہوتا یے: کیا مستقبل میں روبورٹ آپ کا سارا کام کیا کرے گا؟

more » « less
Video Language:
English
Team:
closed TED
Project:
TEDTalks
Duration:
04:36

Urdu subtitles

Revisions