WEBVTT 00:00:00.000 --> 00:00:05.000 میں اسلامی نقطہ نظر سے رحم کے بارے میں بات کر رہا ہوں 00:00:05.000 --> 00:00:08.000 اور شاید میرے ایمان کو جس کی بنیاد رحم پر ہے 00:00:08.000 --> 00:00:12.000 بہت اچھی طرح سے سمجھا نہیں گيا 00:00:12.000 --> 00:00:14.000 مگر حقیقت اس کے برعکس ہے NOTE Paragraph 00:00:14.000 --> 00:00:20.000 ہماری مقدس کتاب ، قرآن ، 114 ابواب پر مشتمل ہے ، 00:00:20.000 --> 00:00:24.000 اور ہر ایک باب بسم اللہ سے شروع ہوتا ہے 00:00:24.000 --> 00:00:30.000 یہ کہنے سے "شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہیا ت رحم والا ہے" 00:00:30.000 --> 00:00:32.000 یا جیسا کہ سر رچرڈ برٹن نے -- 00:00:32.000 --> 00:00:35.000 وہ رچرڈ برٹن نہیں جنہوں نے ایلزبتھ ٹیلر سےشادی کی , 00:00:35.000 --> 00:00:38.000 بلکہ وہ سر رچرڈ برٹن جو اس سے ایک صدی پہلے تھے 00:00:38.000 --> 00:00:40.000 اور جو دنیا بھر کے سياح تھے 00:00:40.000 --> 00:00:44.000 ادب کے بہت سے کاموں کے مترجم اور -- 00:00:44.000 --> 00:00:51.000 وہ ترجمہ یوں کرتے تھے "اللہ کے نام سے جو بڑی مہربانی کرنے والا نہایت مہربان ہے" NOTE Paragraph 00:00:51.000 --> 00:00:58.000 اور قرآن میں آتا ہے، مسلمانوں کےمطابق جس میں اللہ تعالی انسانیت سے مخاطب ہیں، 00:00:58.000 --> 00:01:01.000 اللہ تعالی اپنے نبی محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم سے کہتے ہیں -- 00:01:01.000 --> 00:01:04.000 جس پر ہمارا ایمان ہے وہ انبیاء کے سلسلےميں آخری نبی تھے ، 00:01:04.000 --> 00:01:10.000 حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کے، جس میں حضرت نوح علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام شامل ہیں، 00:01:10.000 --> 00:01:14.000 ان ميں حضرت عيسی' عليہ السلام شامل ہیں اور جو حضرت محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم پر ختم ہوتی ہے-- 00:01:14.000 --> 00:01:17.000 اللہ تعالی فرماتےہيں کہ، "ہم نے آپ کواس ليے بھیجا، اے محمد 00:01:17.000 --> 00:01:23.000 صرف رحمت بنا کر، انسانیت کے لئے رحمت کے منبع کے طور پر " NOTE Paragraph 00:01:23.000 --> 00:01:27.000 ہم انسانوں کے لئے ، اور یقینا ہم مسلمانوں کے لیے 00:01:27.000 --> 00:01:32.000 جن کی مہم اورمقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پيروی کرنا نیز 00:01:32.000 --> 00:01:36.000 خود کو زیادہ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح بنانا ہے ۔ 00:01:36.000 --> 00:01:38.000 ایک حدیث کے مطابق نبی نے کہا 00:01:38.000 --> 00:01:43.000 "اپنے آپ کو اللہ کی صفات کے ساتھ آراستہ کرو" 00:01:43.000 --> 00:01:49.000 اور اس لیے کہ اللہ نے خود کہا کہ اس کی بنیادی صفت مہربانی ہے -- 00:01:49.000 --> 00:01:54.000 درحقیقت قرآن کہتا ہے کہ "خدا نے خود پرمہربانی لازم کر لی" 00:01:54.000 --> 00:01:58.000 یا "اس کی بادشاہت رحم پر مبنی ہے " 00:01:58.000 --> 00:02:05.000 لہذا ، ہمارا مقصد اور ہماری مہم لازمی طور ہمدردی کا ذریعہ بننا ہو گا، 00:02:05.000 --> 00:02:09.000 ہمدردی کےمبتدین ، ہمدردی کا عملی نمونہ 00:02:09.000 --> 00:02:13.000 اور ہمدردی کے بارے میں بات کرنے والے اور ہمدردی کرنے والے۔ NOTE Paragraph 00:02:13.000 --> 00:02:16.000 یہ سب ٹھیک ہے اور سب اچھا ہے 00:02:16.000 --> 00:02:19.000 لیکن ہم غلطی کہاں کرتے ہیں، 00:02:19.000 --> 00:02:24.000 اور دنیا میں ہمدردی کی کمی کا منبع کیا ہے؟ 00:02:24.000 --> 00:02:29.000 اس کے جواب کے لیے ، ہم اپنے روحانی راستے کی طرف دیکھتے ہیں۔ 00:02:29.000 --> 00:02:36.000 ہر مذہبی روایت میں ایک ظاہری اور ایک باطنی راستہ ہوتا ہے ، 00:02:36.000 --> 00:02:41.000 ايک عام فہم راہ اور ايک مخفی راستہ ۔ 00:02:41.000 --> 00:02:49.000 اسلام کے باطنی راہ کا زیادہ مقبول نام صوفیت ہے جسےعربی میں تصوف کےنام سے جانا جاتا ہے ۔ 00:02:49.000 --> 00:02:52.000 اور یہ طيب یا يہ اساتذہ ، 00:02:52.000 --> 00:02:56.000 یہ صوفی روایت کے روحانی استاد ، 00:02:56.000 --> 00:03:00.000 ہمارے نبی کی تعلیمات اور سنت کا حوالہ دیتے ہیں 00:03:00.000 --> 00:03:04.000 جو ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہمارے مسائل کی جڑ کیا ہے ۔ NOTE Paragraph 00:03:04.000 --> 00:03:08.000 ایک جنگ کے دوران جو نبی نے لڑی ، 00:03:08.000 --> 00:03:13.000 انہوں نے اپنے پیروکاروں سے کہا ، ہم جنگ اصغر سے واپس آ رہے ہیں 00:03:13.000 --> 00:03:17.000 مگر جنگ اکبر، بڑی لڑائی کی طرف جارہے ہیں" ۔ NOTE Paragraph 00:03:17.000 --> 00:03:22.000 اور پیروکاروں نے کہا ، " اے اللہ کے رسول ، ہم اس لڑائی میں تھکاوٹ سے ٹوٹ چکے ہیں. 00:03:22.000 --> 00:03:25.000 ہم اس سے بڑی لڑائی کیسے لڑ سکتے ہیں؟ " NOTE Paragraph 00:03:25.000 --> 00:03:33.000 انہوں نے کہا کہ ، "یہ نفس کی جنگ ہے ، انا کی جنگ." 00:03:33.000 --> 00:03:42.000 انسانی مسائل کی جڑ انائيت کی "میں" ہے ۔ NOTE Paragraph 00:03:42.000 --> 00:03:48.000 مشہور صوفی استاد رومی ، جن کوآپ میں سے زیادہ تر اچھی طرح جانتے ہیں ، 00:03:48.000 --> 00:03:54.000 ان کی ایک کہانی ہے جس میں وہ ایک شخص کے بارے میں بتاتے ہیں جوایک دوست کے گھر جاتا ہے، 00:03:54.000 --> 00:03:57.000 اور دروازے پر دستک دیتا ہے ، 00:03:57.000 --> 00:04:00.000 اور جواب میں ایک آواز پوچھتی ہے، "کون ہے؟" NOTE Paragraph 00:04:00.000 --> 00:04:05.000 "یہ میں ہوں " 00:04:05.000 --> 00:04:07.000 جیسا کہ ہم انگریزی زبان میں کہتے ہیں ۔ NOTE Paragraph 00:04:07.000 --> 00:04:10.000 آواز آتی ہے ، "چلے جاؤ." NOTE Paragraph 00:04:10.000 --> 00:04:18.000 کئی سالوں کی تربیت' نظم و ضبط' تلاش اور جدوجہد کے بعد ، 00:04:18.000 --> 00:04:20.000 وہ واپس لوٹتا ہے 00:04:20.000 --> 00:04:24.000 اور بہت زیادہ عاجزی کے ساتھ ، وہ دروازے پر پھر دستک دیتا ہے. NOTE Paragraph 00:04:24.000 --> 00:04:27.000 آواز پوچھتی ہے، "کون ہے؟" NOTE Paragraph 00:04:27.000 --> 00:04:31.000 اس نے کہا ، "یہ آپ ہیں، دل توڑنے والے" NOTE Paragraph 00:04:31.000 --> 00:04:35.000 دروازہ ایک دم سے کھلتا ہے ، اور آواز کہتی ہے ، 00:04:35.000 --> 00:04:42.000 داخل ہو'اس گھر میں یہاں دو "میں" کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ، 00:04:42.000 --> 00:04:46.000 دو انگریزی کیپیٹل حروف آئيز (I) -جو دو "میں" کے لیے ہیں نہ کہ یہ آنکھیں - NOTE Paragraph 00:04:46.000 --> 00:04:55.000 اور رومی کے قصے روحانی راستے کے لئے تشبیح ہیں۔ 00:04:55.000 --> 00:05:01.000 خدا کی موجودگی میں ، ایک سے زیادہ "میں" (آئی) کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، 00:05:01.000 --> 00:05:06.000 اور وہ ہے معبود کی "میں" -آئی ۔ 00:05:06.000 --> 00:05:10.000 ایک تعلیم میں -- جسے ہماری روایت میں حدیث قدسی کہا جاتا ہے 00:05:10.000 --> 00:05:16.000 خدا کہتا ہے "میرے خادم ،" یا "میری مخلوق ، میری انسانی مخلوق 00:05:16.000 --> 00:05:22.000 جب ميری طرف رجوع کرتی ہے تو مجھے اس سے زيادہ کوئی اور محبوب نہيں ہوتا 00:05:22.000 --> 00:05:25.000 جيسا کہ میں نے ان کو کرنے کاحکم ديا ہے." 00:05:25.000 --> 00:05:29.000 آپ میں سے وہ جن کے ملازم ہیں وہ جانتے ہیں میرا کیا مطلب ہے 00:05:29.000 --> 00:05:33.000 آپ چاہتے ہیں آپ کے ملازمین آپ کی ہدایت کے مطابق کام کریں، 00:05:33.000 --> 00:05:35.000 اور اگر وہ کام ختم کر چکتے ہیں، تو وہ اضافی کام کرسکتے ہیں۔ 00:05:35.000 --> 00:05:38.000 مگر آپ يہ نظراندازنہیں کرتےکہ آپ نے ان کو کيا ہدایات دی ہيں۔ NOTE Paragraph 00:05:38.000 --> 00:05:44.000 اور خدا کہتا ہے، "میرا خادم مجھ سے قریب تر ہوتا رہتا ہے 00:05:44.000 --> 00:05:47.000 جب ميری دی گئی ہدایات پر زیادہ سے زیادہ عمل کرتا ہے"-- 00:05:47.000 --> 00:05:49.000 ہم اسے اضافی کریڈٹ کہ سکتے ہیں -- 00:05:49.000 --> 00:05:53.000 "جب تک میں اپنے بندوں سے محبت کرتا ہوں۔ 00:05:53.000 --> 00:05:56.000 الله تعالی کہتے ہیں اور جب میں اپنے بندے سے محبت کرتا ہوں،" 00:05:56.000 --> 00:06:02.000 "میں اپنے بندے کی آنکھیں بن جاتا ہوں جس سے وہ ديکھتے ہيں۔ 00:06:02.000 --> 00:06:08.000 وہ کان جن سے وہ سنتے ہہں، 00:06:08.000 --> 00:06:13.000 وہ ہاتھ جس سے وہ سے پکڑتے ہيں 00:06:13.000 --> 00:06:17.000 اور پاؤں جس وہ چلتے ہیں، 00:06:17.000 --> 00:06:22.000 اور وہ دل جس سے وہ سمجھتے ہيں۔" 00:06:22.000 --> 00:06:27.000 کیا یہ ہمارے نفس اورمعبود کا انضمام ہے 00:06:27.000 --> 00:06:35.000 یہ ہمارے روحانی سفر کا اور ہماری تمام مذہبی روایات کا سبق اورمقصد ہے ۔ NOTE Paragraph 00:06:35.000 --> 00:06:41.000 مسلمان حضرت عیسی کو صوفیت کا استاد مانتے ہیں، 00:06:41.000 --> 00:06:48.000 سب سے عظیم نبی اور رسول جو روحانی راہ پر زور دینے آئے تھے۔ 00:06:48.000 --> 00:06:52.000 جب وہ کہتے ہیں ، "میں ہی روح ہوں ، اور میں ہی راستہ ہوں " 00:06:52.000 --> 00:06:57.000 اور جب حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم نے کہا کہ ،" جس نے مجھے دیکھا اس نے خدا کو دیکھا" 00:06:57.000 --> 00:07:02.000 کیونکہ وہ خدا کا ایک آلہ کار بن گے، 00:07:02.000 --> 00:07:04.000 وہ خدا کی تنظیم کا حصہ بن گئے-- 00:07:04.000 --> 00:07:08.000 تاکہ خدا کے حکم کو ان کے ذریعے واضح کیا جائے، 00:07:08.000 --> 00:07:12.000 ان کےعمل ان کی اپنی ذات اور انا سے آزاد تھے۔ 00:07:12.000 --> 00:07:19.000 رحم دلی اس عالم میں ہے، ہمارے اندر مجود ہے۔ 00:07:19.000 --> 00:07:24.000 ہمیں بس اپنی انا کو اپنے سےعليحدہ کرنا ہو گا، 00:07:24.000 --> 00:07:27.000 خود غرضی کو ایک طرف کرنا ہو گا۔ NOTE Paragraph 00:07:27.000 --> 00:07:35.000 مجھے یقین ہے، غالباً یہاں پرآپ سب، یا یقینا آپ کی بہت بڑی اکثریت کو 00:07:35.000 --> 00:07:39.000 کوئی روحانی تجربہ ہوا ہو گا، 00:07:39.000 --> 00:07:46.000 آپ کی زندگی کا ایک لمحہ، چند سیکنڈ کے لئے، ایک منٹ کے لئے شاید، 00:07:46.000 --> 00:07:52.000 جس ميں انائيت کی حدود تحلیل ہو جاتی ہیں۔ 00:07:52.000 --> 00:07:59.000 اوراس منٹ میں، آپ محسوس کرتے ہیں آپ اور کائنات ایک ہیں-- 00:07:59.000 --> 00:08:05.000 ایک، پانی کے جگ جیسا، ایک ہر انسان کے ساتھ، 00:08:05.000 --> 00:08:09.000 ایک خالق کے ساتھ -- 00:08:09.000 --> 00:08:14.000 اور آپ اپنے آپ کو خدا کی موجودگی میں محسوس کرتے ہیں، جلال کی موجودگی میں، 00:08:14.000 --> 00:08:18.000 سب سے گہری محبت ،سب سے گہری شفقت اور رحم 00:08:18.000 --> 00:08:22.000 جس کا آپ کو کبھی اپنی زندگی میں تجربہ ہوا ہو۔ NOTE Paragraph 00:08:22.000 --> 00:08:28.000 یہ ایک پل ہے جو خدا کی طرف سے ہمارے لئے ایک تحفہ ہے -- 00:08:28.000 --> 00:08:32.000 ایک پل - ایک تحفہ - جب وہ حدود سے آزاد کر دیتا ہے 00:08:32.000 --> 00:08:38.000 جو ہميں "میں" ، "میں" ، "ميں" اور "مجھے"، " مجھے"، " مجھے" پراصرار کراتی ہیں 00:08:38.000 --> 00:08:42.000 بجائےاس کے ، رومی کی کہانی میں اس شخص کی طرح 00:08:42.000 --> 00:08:48.000 ہم کہتے ہیں ، "اوہ ، یہ سب آپ ہيں" 00:08:48.000 --> 00:08:50.000 یہ سب آپ ہيں اور يہ سب ہم ہيں۔ 00:08:50.000 --> 00:08:56.000 اور ہم، اور ميں، اور ہم سب آپ کا حصہ ہيں۔ 00:08:56.000 --> 00:09:02.000 سب کے خالقِ حقيقي، ہمارے وجود کا زريعہ 00:09:02.000 --> 00:09:04.000 اور ہمارے سفر کے انجام 00:09:04.000 --> 00:09:09.000 آپ ہی ہمارے دلوں کو توڑنے والے بھی ہیں۔ 00:09:09.000 --> 00:09:15.000 آپ وہ ہیں جس کی طرف ہم سب کوہونا چاہئے، جس کے لئے ہماری زندگی کا مقصد ہونا چاہئے ، 00:09:15.000 --> 00:09:19.000 اور جس کے مقصد کے لیے ہمیں مرنا چاہئے، 00:09:19.000 --> 00:09:23.000 اور جس کے مقصد کے لیے ہم پھر سے اٹھائے جائیں گے 00:09:23.000 --> 00:09:30.000 اور خدا کو جواب دینے کے لئے کہ ہم کس حد تک رحم دل تھے۔" NOTE Paragraph 00:09:30.000 --> 00:09:34.000 آج ہمارا پیغام اور آج ہمارا مقصد 00:09:34.000 --> 00:09:37.000 اور آپ میں سے جو لوگ آج یہاں موجود ہیں، 00:09:37.000 --> 00:09:42.000 ان کواس اختیارشفقت (چارٹر آف کمپيشن) کا مقصد یاد دلانا ہے. 00:09:42.000 --> 00:09:50.000 قران ہمیں ہمیشہ ابھارتا ہے کہ ہم یاد رکھيں اور ایک دوسرے کوبھی یاد دلائیں 00:09:50.000 --> 00:09:58.000 کیونکہ علمِ حق تو ہر انسان کے اندر ہے۔ NOTE Paragraph 00:09:58.000 --> 00:10:01.000 ہمیں سب معلوم ہے۔ 00:10:01.000 --> 00:10:03.000 ہم سب کو اس تک رسائی حاصل ہے۔ 00:10:03.000 --> 00:10:07.000 جونگ نے شائد اس کو "تحت الشعوری" کا نام دیا ہے۔ 00:10:07.000 --> 00:10:11.000 تحت الشعوری کے زريعے، آپ کے خواب ميں -- 00:10:11.000 --> 00:10:19.000 قران ہمارے سونے کی حالت کو "نیم موت" کہتا ہے، 00:10:19.000 --> 00:10:23.000 "عارضی موت" -- 00:10:23.000 --> 00:10:28.000 نیند کی حالت ميں ہم خواب ديکھتے ہيں، ہميں کشف ہوتا ہے ، 00:10:28.000 --> 00:10:34.000 ہم جسم کی حدود سے باہر سفر کرتے ہيں، ہم ميں سے کئی 00:10:34.000 --> 00:10:37.000 اور ہم حیرت انگیزچیزيں دیکھتے ہیں۔ 00:10:37.000 --> 00:10:42.000 ہم وہ خلائی حدود، جو ہمارے خیال میں ہيں، ان کے پار سفر کرتے ہیں، 00:10:42.000 --> 00:10:46.000 اور وقت کی حدود، جو ہمارے خیال میں ہيں، کے بھی پار۔ 00:10:46.000 --> 00:10:56.000 لیکن یہ سب ہم اپنے خالق کی تعظیم و تکریم کیلے کرتے ہيں 00:10:56.000 --> 00:11:02.000 جس کا بنیادی نام رحمان ہے، مہربانی کرنے والا۔ NOTE Paragraph 00:11:02.000 --> 00:11:09.000 خدا ، بوکہ، اللہ ، رام يا اوم جس نام سے بھی آپ اسے پکاریں، 00:11:09.000 --> 00:11:12.000 آپ جس بھی نام سےاس کو پکارتے ہيں 00:11:12.000 --> 00:11:16.000 یا معبود کی موجودگی تک رسائی پاتے ہیں 00:11:16.000 --> 00:11:22.000 یہ حاکم علی الطلاق کا محل وقوع، 00:11:22.000 --> 00:11:26.000 سراسر محبت، رحمت اور شفقت, 00:11:26.000 --> 00:11:29.000 اور مکمل علم و دانش ہے، 00:11:29.000 --> 00:11:32.000 ہندو جسے "ستچیدانادا" کہتے ہيں۔ 00:11:32.000 --> 00:11:35.000 زبانیں مختلف ہیں، 00:11:35.000 --> 00:11:39.000 لیکن مقصد ایک ہی ہے۔ NOTE Paragraph 00:11:39.000 --> 00:11:41.000 رومی کی ایک اور کہانی ہے 00:11:41.000 --> 00:11:44.000 تین لوگوں کی ، ایک ترکی، ایک عرب اور -- 00:11:44.000 --> 00:11:48.000 اور تیسرا آدمی میں بھول گيا ہوں، لیکن اپنی وجہ سے میں کہہ سکتا ہوں یہ ایک ملاوی ہو سکتا ہے ۔ 00:11:48.000 --> 00:11:51.000 ایک انگور مانگ رہا ہے-- ايک فرض کریں، انگریز 00:11:51.000 --> 00:11:56.000 ایک گريپ مانگ رہا ہے، اور ایک عينب کے لئے پوچھ رہا ہے ۔ 00:11:56.000 --> 00:11:59.000 اور ان ميں لڑائی اور بحث کی وجہ يھ تھی 00:11:59.000 --> 00:12:03.000 -- مجھے گريپ چاہیے، مجھے عينب چاہیے، اور مجھے انگور چاہيے۔ -- 00:12:03.000 --> 00:12:06.000 وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ جو لفظ وہ استعمال کر رہے ہیں 00:12:06.000 --> 00:12:09.000 مختلف زبانوں میں ايک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ NOTE Paragraph 00:12:09.000 --> 00:12:15.000 اس تعریف کے مطابق صرف ایک حاکم علی الاطلاق ہے، 00:12:15.000 --> 00:12:18.000 جس کی وضاحت صرف حاکم علی الاطلاق ہی ہے، 00:12:18.000 --> 00:12:21.000 کیونکہ قطعی کی تعریف واحد ہے، 00:12:21.000 --> 00:12:24.000 قطی اور جداگانہ۔ 00:12:24.000 --> 00:12:27.000 اور يہ اس کے وجود کا قطعی مجتمع ہے، 00:12:27.000 --> 00:12:30.000 شعور کا ایک قطعی مرکز، 00:12:30.000 --> 00:12:40.000 شعور، رحم اور محبت کا ایک مطلق مرکز 00:12:40.000 --> 00:12:44.000 جو عالم بالا کی بنیادی خصوصیات کی وضاحت کرتا ہے۔ NOTE Paragraph 00:12:44.000 --> 00:12:47.000 اورايسا ہی ہونا چاہئے 00:12:47.000 --> 00:12:52.000 وہ بنیادی خصوصیات جن سے انسان کی پہچان ہوتی ہے۔ 00:12:52.000 --> 00:12:58.000 جو انسانیت کی وضاحت کرتا ہے، شاید حیاتیاتی طور پر 00:12:58.000 --> 00:13:01.000 وہ ہماری فعلیات ہے، 00:13:01.000 --> 00:13:09.000 لیکن خدا انسانیت کی تعریف ہماری روحانیت اور فطرت سے کرتا ہے۔ NOTE Paragraph 00:13:09.000 --> 00:13:13.000 اور قران کہتا ہے، وہ فرشتوں سے مخاطب ہے، 00:13:13.000 --> 00:13:17.000 "جب میں نےآدم علیہ السلام کو مٹی سے بنانا مکمل کر لیا 00:13:17.000 --> 00:13:21.000 اور اس میں اپنی روح پھونکی، 00:13:21.000 --> 00:13:25.000 اس کے ليےسجدہ میں گر پڑو." 00:13:25.000 --> 00:13:33.000 فرشتے انسانی جسم کے سامنے سجدہ میں نہیں گرے 00:13:33.000 --> 00:13:36.000 بلکہ انسانی روح کے سامنے۔ 00:13:36.000 --> 00:13:40.000 کیوں؟ کیونکہ روح ، انسانی روح، 00:13:40.000 --> 00:13:46.000 متبرک سانس کا ایک عملی اظہار ہے، 00:13:46.000 --> 00:13:49.000 متبرک روح کا ایک حصہ۔ NOTE Paragraph 00:13:49.000 --> 00:13:54.000 یہ بائبل کے مجموعہ الفاظ میں بھی بیان کیا گیا ہے 00:13:54.000 --> 00:14:00.000 جب ہمیں سکھايا گيا کہ ہم کو خدا کے روپ میں پیدا کيا گيا ہے۔ 00:14:00.000 --> 00:14:02.000 خدا کا تصور کیا ہے؟ 00:14:02.000 --> 00:14:06.000 خدا کا تصور مطلق وجود ہے۔ 00:14:06.000 --> 00:14:09.000 مکمل شعور اور علم و دانش 00:14:09.000 --> 00:14:12.000 اور سراسر شفقت اور محبت۔ NOTE Paragraph 00:14:12.000 --> 00:14:16.000 اور اِسی وجہ سے ، ہميں انسان بننے کے لئے -- 00:14:16.000 --> 00:14:20.000 شعور بالا کے مطابق انسان ہونے کے کيا معنی ہيں، 00:14:20.000 --> 00:14:23.000 شعورِ مسرت کے مطابق انسان ہونے کے کيا معنی ہيں -- 00:14:23.000 --> 00:14:29.000 مطلب یہ ہے کہ ہم کو بھی اول درجے کا منتظم ہونا ہو گا 00:14:29.000 --> 00:14:33.000 معبود حقيقی کی سانس کا جو ہمارے ميں پھونکی گئی ہے، 00:14:33.000 --> 00:14:38.000 اور اپنی صفات کو مکمل کرنے کی تلاش میں، 00:14:38.000 --> 00:14:41.000 اس سے باخبر رہنا؛ 00:14:41.000 --> 00:14:46.000 دانش مندی اور بیداری کی صفات 00:14:46.000 --> 00:14:51.000 اور شفقت اور محبت کرنے والی مخلوق ہونے کی صفات۔ NOTE Paragraph 00:14:51.000 --> 00:14:57.000 یہ میں نے اپنے عقيدہ کی روایت سے سمجھی ہے، 00:14:57.000 --> 00:15:04.000 نیز یہ میں نے دوسرے عقائد کی روایات کے مطالعہ سے سمجھی ہے، 00:15:04.000 --> 00:15:10.000 اور یہ وہ مشترکہ پلیٹ فارم ہے جس پر ہم سب نے کھڑا ہونا ہے، 00:15:10.000 --> 00:15:13.000 اور جب ہم اس پلیٹ فارم پر کھڑے ہوں گے 00:15:13.000 --> 00:15:19.000 مجھے پکا یقین ہے کہ ہم ایک زبردست د نیا بنا سکتے ہيں۔ NOTE Paragraph 00:15:19.000 --> 00:15:25.000 اور ذاتی طور پر مجھے یقین ہے کہ ہم اس موڑ کےقريب ہیں 00:15:25.000 --> 00:15:29.000 اور آپ جیسے لوگوں کی موجودگی اور مدد کے ساتھ، 00:15:29.000 --> 00:15:35.000 ہم ایسایاہ کی پیشن گوئی کو پورا سکتے ہيں۔ 00:15:35.000 --> 00:15:39.000 وہ پیشن گوئی کرتے ہيں ایک ایسے زمانے کے بارے ميں 00:15:39.000 --> 00:15:46.000 جب لوگ اپنی تلواروں کو ہل کے طور پر استمال کریں گے 00:15:46.000 --> 00:15:52.000 اور وہ نہ جنگ سیکھیں گے اور نہ جنگ کریں گے۔ NOTE Paragraph 00:15:52.000 --> 00:15:58.000 ہم انسانی تاریخ کے اس مرحلے پر پہنچ گئے ہيں جہاں ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے: 00:15:58.000 --> 00:16:07.000 ہميں لازمی طور پر اپنی انائيت کو نيچا کرنا ہوگا، لازمی طور پر۔ 00:16:07.000 --> 00:16:12.000 ہمیں اپنی انا کو اپنے اختيار ميں رکھنا ہو گا چاہے وہ انفرادی ہو يا ذاتی، 00:16:12.000 --> 00:16:18.000 خاندان کا يا قومی گھمنڈ -- 00:16:18.000 --> 00:16:23.000 اور سب حمد و ثنا صرف اس ذاتِ واحد کے ليے ہے۔ NOTE Paragraph 00:16:23.000 --> 00:16:25.000 آپ کا شکریہ، اور خدا آپ پر رحمت کرے۔ 00:16:25.000 --> 00:16:26.000 (تالیاں)