Return to Video

اپنے لئے کیسے آواز اٹھائیں

  • 0:00 - 0:04
    آواز اٹھانا ایک مشکل کام ہے۔
  • 0:04 - 0:10
    مجھے اس بات کے حقیقی معنی ٹھیک
    ایک مہینہ پہلے سمجھ آئے
  • 0:10 - 0:12
    جب میری بیوی اور میں
    ایک بچے کے والدین بنے۔
  • 0:13 - 0:15
    وہ بہت ہی خوبصورت لمحہ تھا۔
  • 0:15 - 0:17
    یہ بہت ہی فرحت بخش اور پر مسرت تھا،
  • 0:17 - 0:20
    لیکن کچھ ڈراؤنا اور خوفناک بھی تھا۔
  • 0:20 - 0:25
    اور یہ خاص طور پر زیادہ ڈراؤنا ہو گیا جب
    ہم ہسپتال سے گھر آئے،
  • 0:25 - 0:26
    اور ہمیں یقین نہیں تھا
  • 0:26 - 0:30
    کہ ہمارے ننھے لڑکے کو ماں کے دودھ سے
    پوری غذائیت مل رہی ہے یا نہیں.
  • 0:31 - 0:34
    اور ہم اپنے بچے کے ڈاکٹر
    سے مشورہ کرنا چاہ رہے تھے،
  • 0:34 - 0:37
    لیکن ہم اپنا پہلا تاثر خراب
    بھی نہیں کرنا چاہتے تھے
  • 0:37 - 0:39
    اور کوئی وہمی اور دیوانے
    ماں باپ بھی نہیں لگنا چاہتے تھے۔
  • 0:39 - 0:41
    تو ہم پریشان تھے۔
  • 0:41 - 0:42
    اور ہم نے انتظار کیا۔
  • 0:42 - 0:44
    پھر ہم دوسرے دن ڈاکٹر کے پاس گئے،
  • 0:44 - 0:49
    تو اس نے فوراً اسے ڈبے کا دودھ پلایا
    کیونکہ اس میں پانی کی خاصی کمی تھی۔
  • 0:49 - 0:50
    ہمارا بیٹا اب ٹھیک ہے،
  • 0:50 - 0:54
    اور ہماری ڈاکٹر نے ہمیں یقین دلایا ہے
    کہ ہم اس سے کبھی بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔
  • 0:54 - 0:56
    لیکن اُس لمحے میں،
  • 0:56 - 0:58
    مجھے آواز اٹھانی چاہیے تھی
    لیکن میں نے ایسا نہیں کیا،
  • 0:59 - 1:02
    لیکن کبھی کبھی ہم بول پڑتے ہیں
    جب ہمیں نہیں بولنا چاہئے،
  • 1:02 - 1:06
    اور میں نے یہ سیکھا دس سال پہلے جب میں
    نے اپنے جڑواں بھائی کو مایوس کیا تھا۔
  • 1:06 - 1:09
    میرا جڑواں بھائی ایک
    ڈاکیو مینٹری بنانے والا فلمساز ہے،
  • 1:09 - 1:11
    اور اسے اس کی پہلی فلموں
    میں سے ایک کے لیے،
  • 1:11 - 1:13
    ایک تقسیم کار ادارے سے پیشکش ہوئی۔
  • 1:13 - 1:15
    وہ پُر جوش تھا،
  • 1:15 - 1:17
    اور وہ اس پیشکش کو قبول کرنے والا تھا۔
  • 1:17 - 1:20
    لیکن ایک تصفیہ ساز محقق کی حیثیت سے،
  • 1:20 - 1:23
    میں نے اصرار کیا کہ وہ
    ایک جوابی پیشکش کرے،
  • 1:23 - 1:26
    اور میں نے ایک بہترین پیشکش
    بنانے میں اس کی مدد کی۔
  • 1:26 - 1:28
    اور وہ بالکل شاندار تھی --
  • 1:28 - 1:30
    وہ شاندار بے عزتی کروانے والی تھی۔
  • 1:30 - 1:32
    وہ ادارہ اتنا ناراض ہوا کہ،
  • 1:32 - 1:34
    انہوں نے اپنی پیشکش واپس لے لی
  • 1:34 - 1:36
    اور میرے بھائی کے پاس کچھ نہ بچا۔
  • 1:36 - 1:40
    اور میں نے دنیا بھر کے لوگوں سے
    اس آواز اٹھانے کے تضاد کا پوچھا ہے:
  • 1:40 - 1:42
    کہ کب وہ اپنے لئے آواز اٹھا سکتے ہیں،
  • 1:42 - 1:44
    اور کب وہ اپنے مفادات کو بڑھا سکتے ہیں،
  • 1:44 - 1:46
    کب وہ اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں،
  • 1:46 - 1:49
    اور کب وہ اپنی ترقی کے لئے
    بے ججھک مانگ سکتے ہیں۔
  • 1:49 - 1:53
    اور جو کہانیاں سامنے آئیں
    وہ مختلف اور متنوع تھیں،
  • 1:53 - 1:56
    لیکن وہ ایک آفاقی خاکہ بھی بناتی ہیں۔
  • 1:56 - 1:59
    کیا میں اپنے افسر کی اصلاح
    کر سکتا ہوں جب وہ غلطی کرے؟
  • 1:59 - 2:03
    کیا میں اپنے ساتھی کے بالمقابل
    آ سکتا ہوں جو مجھے دبانے کی کوشش کرتا ہو؟
  • 2:03 - 2:06
    کیا میں اپنے کسی دوست کے متعصبانہ
    لطیفوں پر اعتراز کر سکتا ہوں؟
  • 2:06 - 2:10
    کیا میں اس کو جس سے میں بیحد پیار کرتا ہوں
    اپنے عدم تحفظ کے احساسات بتا سکتا ہوں؟
  • 2:11 - 2:14
    اور ان تجربات کی بنیاد پر میں نے سیکھا
  • 2:14 - 2:18
    ہم میں سے ہر ایک کے لیے
    ایک قابلِ قبول رویے کی حد ہوتی ہے۔
  • 2:18 - 2:23
    کبھی ہم بے حد ثابت قدم ہوتے ہیں:
    حد سے زیادہ کوشش کرتے ہیں۔
  • 2:23 - 2:25
    یہی کچھ میرے بھائی کے ساتھ ہوا۔
  • 2:25 - 2:29
    کیونکہ جوابی پیشکش کرنا
    اسکی قابلِ قبول حد کے باہر تھا۔
  • 2:29 - 2:31
    لیکن ہم کبھی کبھار بہت کمزور ہو جاتے ہیں۔
  • 2:31 - 2:33
    یہی میرے اور میری بیوی کے ساتھ ہوا۔
  • 2:33 - 2:36
    اور ان قابلِ قبول رویوں کی حد --
  • 2:36 - 2:39
    جب ہم اپنی حد میں رہتے ہیں
    تو فائدہ ہوتا ہے۔
  • 2:39 - 2:43
    اور جب ہم اپنی حد سے باہر نکلتے ہیں
    تو ہمیں مختلف طرح کا نقصان ہوتا ہے۔
  • 2:43 - 2:46
    ہمیں مسترد یا رسوا کیا جاتا ہے
    یہاں تک کہ علیحدہ بھی کر دیا جاتا ہے۔
  • 2:46 - 2:49
    اور ہم ترقی کو کھو دیتے ہیں
    یا اس موقع اور معاہدے کو۔
  • 2:50 - 2:53
    اب ہمیں جو سب سے پہلے جاننا چاہئے وہ یہ:
  • 2:53 - 2:54
    کہ میری حد کیا ہے؟
  • 2:55 - 2:59
    لیکن اصل بات یہ ہے کہ حد مقرر نہیں ہے۔
  • 2:59 - 3:01
    ہہ دراصل بدلتی رہتی ہے۔
  • 3:01 - 3:05
    یہ پھیلتی اور سکڑتی ہے حالات کی بنیاد پر۔
  • 3:05 - 3:09
    اور ایک چیز سب سے زیادہ
    اس کے پھیلاؤ کا تعین کرتی ہے،
  • 3:10 - 3:11
    اور وہ ہے آپکی طاقت۔
  • 3:11 - 3:14
    آپ کی طاقت آپ کی حد کا تعین کرتی ہے۔
  • 3:14 - 3:15
    طاقت کیا ہے؟
  • 3:15 - 3:17
    طاقت کئی انداز میں ملتی ہے۔
  • 3:17 - 3:20
    مذاکرات میں یہ متبادل کی شکل میں ملتی ہے۔
  • 3:20 - 3:22
    تو میرے بھائی کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔
  • 3:22 - 3:23
    اس کے پاس طاقت نہیں تھی۔
  • 3:23 - 3:25
    ادارے کے پاس بہت سے متبادل تھے؛
  • 3:25 - 3:26
    ان کے پاس طاقت تھی۔
  • 3:26 - 3:29
    کبھی ایسا ہوتا ہے جب آپ کسی ملک میں
    نئے ہوں جیسے کوئی مہاجر،
  • 3:29 - 3:31
    یا کسی ادارے میں نئے ہوں،
  • 3:31 - 3:32
    یا پھر کسی تجربے میں نئے،
  • 3:32 - 3:34
    جیسے میں اور میری بیوی نئے والدین تھے۔
  • 3:34 - 3:36
    کبھی یہ دفتر میں ہوتا ہے،
  • 3:36 - 3:39
    جہاں کوئی افسر ہوتا ہے اور کوئی ماتحت۔
  • 3:39 - 3:40
    کبھی یہ رشتوں میں ہوتا ہے،
  • 3:40 - 3:43
    جہاں ایک شخص دوسرے سے
    زیادہ ذمہ دار ہوتا ہے۔
  • 3:43 - 3:47
    اصل بات یہ ہے کہ جب ہمارے پاس
    زیادہ طاقت ہوتی ہے،
  • 3:47 - 3:49
    ہماری حد بہت وسیع ہو جاتی ہے۔
  • 3:49 - 3:51
    ہمارے پاس بہت گنجائش ہوتی ہے
    اپنے رویہ میں۔
  • 3:51 - 3:54
    جب ہماری طاقت کم ہوتی ہے،
    تو ہماری حد کم ہو جاتی ہے۔
  • 3:55 - 3:56
    ہمارے پاس گنجائش بہت کم ہو جاتی ہے۔
  • 3:57 - 4:00
    مسئلہ یہ ہے کہ جب حد کم ہوتی ہے،
  • 4:00 - 4:04
    تو پھر کچھ ایسا ہوتا ہے جسے
    کمزوری کا دوراہا کہتے ہیں۔
  • 4:04 - 4:07
    کمزوری کا دوراہا آتا ہے
  • 4:07 - 4:10
    جب اگر ہم آواز نہیں اٹھاتے،
    تو نظر انداز کیے جاتے ہیں،
  • 4:10 - 4:13
    لیکن اگر آواز اٹھاتے ہیں،
    تو ہمیں سزا ملتی ہے۔
  • 4:13 - 4:16
    تو آپ میں سے کئی نے سنا ہوگا اس
    "دوراہے" کے بارے میں
  • 4:16 - 4:19
    اور اس کا تعلق صنف سے ہونے کا۔
  • 4:19 - 4:23
    یہ صنف کا دوراہا ان عورتوں کا ہے جو آواز
    نہیں اٹھاتیں اور نظر انداز ہو جاتی ہیں،
  • 4:23 - 4:26
    اور وہ عورتیں جو آواز اٹھاتی ہیں
    وہ سزا پاتی ہیں۔
  • 4:26 - 4:31
    اور اصل بات یہ ہے کہ عورتوں کو بھی
    مردوں کی طرح آواز اٹھانے کی ضرورت ہے،
  • 4:31 - 4:34
    لیکن ان کے سامنے ایسا کرنے
    میں رکاوٹیں ہیں۔
  • 4:34 - 4:37
    لیکن میری دو دہائیوں کی تحقیق یہ بتاتی ہے
  • 4:37 - 4:41
    کہ جو بظاہر صنفی فرق نظر آتا ہے
  • 4:41 - 4:43
    اس کا تعلق درحقیقت صنفی دوراہے سے نہیں ہے،
  • 4:43 - 4:46
    بلکہ وہ دراصل کمزوری کا دو راہا ہے۔
  • 4:46 - 4:48
    اور وہ جو بظاہر صنفی فرق لگتا ہے
  • 4:48 - 4:51
    وہ در حقیقت چھپا ہوا طاقت کا فرق ہے۔
  • 4:51 - 4:54
    اکثر ہمیں فرق نظر آتا ہے عورت اور مرد میں
  • 4:54 - 4:56
    اور آدمیوں اور عورتوں میں،
  • 4:56 - 4:59
    وہ لگتا ہے "حیاتیاتی وجہ سے ہے۔
    جبکہ بنیادی طور پر فرق ہے
  • 4:59 - 5:00
    دونوں صنفوں کے بارے میں۔"
  • 5:00 - 5:02
    لیکن بہت سے تحقیقی مطالعوں میں،
  • 5:02 - 5:06
    مجھے ایک بہتر وضاحت ملی بہت سے
    صنفی فرق کے بارے میں
  • 5:07 - 5:08
    وہ دراصل طاقت ہے۔
  • 5:08 - 5:11
    تو یہ دراصل کمزوری کا دوراہا ہے۔
  • 5:12 - 5:17
    اور کمزوری کے دوراہے کا مطلب ہے
    ہماری حد بہت تھوڑی ہے،
  • 5:17 - 5:19
    اور ہماری طاقت بھی کم ہے۔
  • 5:19 - 5:20
    ہماری حد بہت تھوڑی ہے،
  • 5:20 - 5:22
    اور ہمارے دوراہے میں فرق بہت زیادہ ہے۔
  • 5:22 - 5:25
    تو ہمیں ان طریقوں کو ڈھونڈنا ہو گا
    جو ہماری حد بڑھا سکیں۔
  • 5:25 - 5:26
    اور پچھلی چند دہائیوں سے،
  • 5:26 - 5:30
    میں نے اور میرے ساتھیوں نے دریافت کیا کہ
    دو چیزوں کی بہت اہمیت ہے۔
  • 5:30 - 5:34
    پہلا، اپنی نظر میں آپ طاقتور ہوں۔
  • 5:34 - 5:38
    دوسرا، دوسروں کی نظر میں آپک طاقتور ہوں۔
  • 5:38 - 5:39
    جب میں اپنے آپ کو طاقتور سمجھتا ہوں،
  • 5:40 - 5:42
    میں پر اعتماد محسوس کرتا ہوں،
    خوف زدہ نہیں؛
  • 5:42 - 5:44
    میں اپنی حد بڑھا دیتا ہوں۔
  • 5:44 - 5:46
    جب دوسرے لوگ مجھے طاقتور دیکھتے ہیں،
  • 5:47 - 5:49
    وہ میری حد بڑھا دیتے ہیں۔
  • 5:49 - 5:54
    تو ہمیں اپنے قابلِ قبول رویے کی حد
    بڑھانے کے لیے کچھ طریقوں کی ضرورت ہے۔
  • 5:54 - 5:56
    اور میں آپ کو آج کچھ طریقے بتاوں گا۔
  • 5:56 - 5:58
    آواز اٹھانا خطرناک ہے،
  • 5:59 - 6:02
    لیکن ان طریقوں سے آپ کے آواز
    اٹھانے میں خطرہ کم ہو جائے گا۔
  • 6:03 - 6:09
    پہلا طریقہ جو میں آپ کو بتارہا ہوں
    وہ مذاکرات میں سامنے آیا ہے
  • 6:09 - 6:10
    ایک اہم دریافت ہے۔
  • 6:10 - 6:14
    اوسطاً عورتیں قدرے کم بلند خیال
    پیشکشیں کرتی ہیں
  • 6:14 - 6:18
    اور مردوں کے مقابلے میں بد تر تنائج
    سودے بازی کے ذریعے پاتی ہیں۔
  • 6:18 - 6:21
    لیکن ھینا رِلے بولز اور ایمیلی امانت اللہ
    نے دریافت کیا
  • 6:21 - 6:25
    کہ ایک معاملہ ہے جہاں عورتوں کو
    مردوں کے برابر نتیجہ ملتا ہے
  • 6:25 - 6:27
    اور اس میں وہ برابر کی بلند خیال ہیں۔
  • 6:27 - 6:31
    وہ ہے جب وہ دوسروں کے حقوق کی
    بات کرتی ہیں۔
  • 6:31 - 6:33
    جب وہ دوسروں کے حقوق کی بات کرتی ہیں،
  • 6:33 - 6:38
    وہ اپنی حد دریافت کرتی ہیں اور
    اسکو اپنے ذہن میں بڑھا لیتی ہیں۔
  • 6:38 - 6:40
    وہ زیادہ یقین سے اپنی
    بات کہتی ہیں۔
  • 6:40 - 6:43
    یہ کبھی "ماما بیر ایفیکٹ "کہلاتا ہے۔
  • 6:43 - 6:46
    جیسے ماما بھالو اپنے بچوں
    کی حفاظت کر رہی ہے،
  • 6:46 - 6:50
    جب ہم دوسروں کے لئے آواز اٹھاتے ہیں
    ہمیں اپنی آواز مل جاتی ہے۔
  • 6:50 - 6:53
    لیکن کبھی کبھی ہمیں اپنے لئے
    آواز اٹھانی پڑتی ہے۔
  • 6:53 - 6:55
    یہ ہم کیسے کر سکتے ہیں؟
  • 6:55 - 6:59
    سب سے اہم طریقہ جو ہمارے پاس
    اپنی وکالت کے لئے ہے
  • 6:59 - 7:01
    وہ ہے نقطہ نظر اپنانا۔
  • 7:01 - 7:04
    اور نقطہ نظر اپنانا بلکل آسان ہے:
  • 7:04 - 7:09
    یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ کسی اور کی
    نگاہ سے دنیا کو دیکھ رہے ہیں۔
  • 7:09 - 7:13
    یہ سب سے اہم طریقہ ہے
    اپنی حد بڑھانے کے لئے۔
  • 7:13 - 7:15
    جب میں آپ کے نقطہ نظر سے سوچتا ہوں،
  • 7:15 - 7:17
    اور میں یہ سوچتا ہوں کہ
    آپ کو اصل میں کیا چاہئے،
  • 7:17 - 7:21
    زیادہ امکان ہے کہ آپ مجھے وہ دے دیں گے
    جو مجھے اصل میں چاہیے۔
  • 7:21 - 7:23
    لیکن مسئلہ یہ ہے:
  • 7:23 - 7:25
    نقطہ نظر اپنانا ایک مشکل کام ہے۔
  • 7:25 - 7:27
    تو ہم ایک چھوٹا سا تجربہ کرتے ہیں۔
  • 7:27 - 7:30
    میں چاہتا ہوں کہ آپ سب
    اپنا ہاتھ ایسے اٹھائیں:
  • 7:30 - 7:32
    اپنی انگلی -- اوپر رکھئے۔
  • 7:32 - 7:36
    اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے ماتھے پر
    بڑا "ای "بنائیے
  • 7:36 - 7:38
    جتنی جلدی ہوسکے۔
  • 7:40 - 7:43
    اچھا یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس" ای "کو
    دو طرح سے بنا سکتے ہیں،
  • 7:43 - 7:47
    اور بنیادی طور پر یہ نقطہ نظر سمجھنے کے
    امتحان کے طور پر بنایا گیا تھا۔
  • 7:47 - 7:49
    میں آپکو دو تصاویر دکھاؤں گا
  • 7:49 - 7:51
    کسی کی جس کے ماتھے پر "ای" بنا ہو گا --
  • 7:51 - 7:53
    میری پرانی شاگرد" ایریکہ حال" کی۔
  • 7:53 - 7:55
    اور آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں،
  • 7:55 - 7:57
    کہ یہ سیدھا "ای" ہے۔
  • 7:57 - 8:00
    میں نے ایسا "ای "بنایا ہے کہ یہ سامنے
    والے کو" ای" نظر آتا ہے۔
  • 8:00 - 8:02
    یہ نقطہ نظر اپنانے والا "ای" ہے
  • 8:02 - 8:05
    کیونکہ یہ کسی اور کے نقطہ نظر سے
    "ای" نظر آرہا ہے۔
  • 8:05 - 8:09
    لیکن یہ والا ای اپنی نظر سے"ای" ہے۔
  • 8:09 - 8:11
    ہم اکثر اپنی نظر سے دیکھتے ہیں۔
  • 8:11 - 8:14
    اور ہم خاص طور ہر کسی بحران کو
    اپنی نظر سے دیکھتے ہیں۔
  • 8:14 - 8:16
    میں آپ کو ایک خاص بحران کے
    بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔
  • 8:16 - 8:19
    ایک آدمی واٹسن وِلے، کیلیفورنیا، کے
    ایک بینک میں داخل ہوتا ہے۔
  • 8:20 - 8:23
    اور وہ کہتا ہے، "مجھے دو ہزار ڈالر دیں،
  • 8:23 - 8:25
    ورنہ میں پورا بینک بم سے اڑا دوں گا۔"
  • 8:26 - 8:28
    اب بینک کی منیجر نے اس کو پیسے نہیں دیے۔
  • 8:28 - 8:29
    وہ ایک قدم پیچھے ہٹی۔
  • 8:30 - 8:31
    اور اس کے نقطہ نظر سے دیکھا،
  • 8:31 - 8:34
    اور اس کو ایک بہت اہم بات سمجھ آئی۔
  • 8:34 - 8:36
    کہ اس نے ایک خاص رقم طلب کی ہے۔
  • 8:36 - 8:38
    تو اس نے کہا،
  • 8:39 - 8:41
    "تم نے دو ہزار ڈالر کیوں مانگے؟"
  • 8:41 - 8:44
    اس نے کہا "میرے دوست کو
    جیل کی سزا ہو جائے گی
  • 8:44 - 8:46
    اگر میں نے فوراً اسکو
    دو ہزار ڈالر نہیں دیے تو۔"
  • 8:46 - 8:49
    اس نے کہا کہ "اوہ! پھر تو تمہیں
    بینک لوٹنا نہیں چاہیے --
  • 8:49 - 8:51
    تمہیں تو ادھار پیسے لینے چاہیں۔"
  • 8:51 - 8:52
    (قہقہے)
  • 8:52 - 8:54
    "تم میرے دفتر کیوں نہیں آ جاتے،
  • 8:54 - 8:56
    ہم تمہاری کاغذی کاروائی کرنے
    میں مدد کریں گے۔"
  • 8:56 - 8:57
    (قہقہے)
  • 8:57 - 9:02
    اب، اس کی جلدی سے نقطہ نظر اپنانے
    کی وجہ سے ایک بڑی مصیبت ٹل گئی۔
  • 9:02 - 9:04
    تو ہم جب کسی اور کا نقطہ نظر اپناتے ہیں،
  • 9:04 - 9:09
    تو یہ ہمیں بلند خیال اور تحکمانہ بناتا ہے
    لیکن پھر بھی لوگ ہمیں پسند کرتے ہیں۔
  • 9:09 - 9:12
    ایک اور طریقہ ہے اپنی بات منوانے کا
    اور اسکے باوجود مقبول رہنے کا،
  • 9:12 - 9:15
    اور وہ ہے لچک کا اشارہ دینا۔
  • 9:15 - 9:19
    آپ تصور کریں کہ آپ گاڑیاں بیچتے ہیں اور
    آپ کسی کو گاڑی بیچنا چاہ رہے ہیں۔
  • 9:20 - 9:24
    زیادہ امکان ہے کہ آپ گاڑی بیچ سکتے ہیں
    اگر آپ ان کو دو میں سے چناو کا موقع دیں۔
  • 9:24 - 9:26
    فرض کریں کہ ایک ہے:
  • 9:26 - 9:29
    پانچ سال کی گارنٹی والی گاڑی
    جس کی قیمت 24 ہزار ڈالر ہے۔
  • 9:29 - 9:30
    یا دوسری ہے:
  • 9:31 - 9:33
    23 ہزار ڈالر کی تین سال کی گارنٹی کے ساتھ۔
  • 9:34 - 9:37
    میری تحقیق کے مطابق اگر
    آپ لوگوں کو چننے کا موقع دیں گے،
  • 9:37 - 9:39
    تو ان میں مدافعتی رویہ کم ہو جائے گا،
  • 9:39 - 9:42
    اور زیادہ امکان ہے کہ
    وہ آپ کی بات مان لیں گے۔
  • 9:42 - 9:44
    اور یہ صرف خرید و فروخت میں نہیں ہوتا؛
  • 9:44 - 9:45
    یہ والدین کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔
  • 9:45 - 9:47
    جب میری بھتیجی چار سال کی تھی،
  • 9:47 - 9:50
    وہ کپڑے پہننے پر جرح کر رہی تھی اور
    ہر چیز کو مسترد کر رہی تھی۔
  • 9:50 - 9:53
    پھر میری بھابی کو ایک بہترین خیال آیا۔
  • 9:53 - 9:56
    کیسا ہو اگر میں اپنی بیٹی کو
    چننے کا موقع دوں؟
  • 9:56 - 9:58
    یہ قمیض کہ دوسری والی؟ اچھا دوسری والی۔
  • 9:58 - 10:00
    یہ پتلون یا یہ پتلون؟ اچھا وہ والی۔
  • 10:00 - 10:01
    اور اس طرح بخوبی کام ہو گیا۔
  • 10:01 - 10:05
    اس نے جلدی سے کپڑے پہن لئے اور
    بغیر مزاحمت کے۔
  • 10:05 - 10:08
    جب میں نے دنیا بھر میں لوگوں سے سوال کیا
  • 10:08 - 10:10
    کہ لوگوں کو کب آواز اٹھانا آسان ہوتا ہے،
  • 10:10 - 10:11
    پہلا جواب تھا:
  • 10:11 - 10:16
    "جب حاضرین میں میری سماجی حمایت ہوتی ہے:
    جب میرے اتحادی ہوتے ہیں۔"
  • 10:16 - 10:20
    تو ہمیں اتحادیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
  • 10:20 - 10:21
    یہ ہم کیسے کریں؟
  • 10:22 - 10:24
    ایک طریقہ ہے کہ آپ ماما بھالو بن جائیں۔
  • 10:24 - 10:26
    جب ہم دوسروں کے لئے
    آواز اٹھاتے ہیں،
  • 10:26 - 10:29
    ہم اپنی نظر میں اور دوسروں کی
    نظر میں اپنی حد وسیع کر لیتے ہیں،
  • 10:29 - 10:31
    اور ساتھ ہی ہمیں مظبوط اتحادی مل جاتے ہیں۔
  • 10:32 - 10:37
    ایک اور طریقہ جس سے ہم مظبوط اتحادی
    بنا سکتے ہیں خصوصا اہم جگہوں پہ،
  • 10:37 - 10:39
    وہ ہے لوگوں سے مشورہ لینا۔
  • 10:39 - 10:45
    جب ہم دوسروں سے رائے لیتے ہیں تو وہ ہمیں
    انکی خوشامد کرنے کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔
  • 10:45 - 10:47
    اور ہم انکساری کا اظہار کرتے ہیں۔
  • 10:47 - 10:51
    اور یہ ایک اور دوراہے کا حل بتاتا ہے۔
  • 10:51 - 10:53
    اور یہ دوراہا اپنی ذات کو آگے بڑھانا ہے۔
  • 10:53 - 10:55
    اپنی ذات کو آگے بڑھانا
  • 10:55 - 10:58
    یہ ہے کہ اگر ہم اپنی کامیابیوں کا
    کا اعلان نہیں کریں گے،
  • 10:58 - 10:59
    تو کوئی توجہ نہیں دیتا۔
  • 10:59 - 11:02
    اور اگر ہم بتائیں تو ہمیں
    پسند نہیں کیا جائے گا۔
  • 11:02 - 11:05
    لیکن اگر ہم اپنی کامیابیوں
    کے بارے میں رائے لیں،
  • 11:05 - 11:10
    تو ہم ان کی نظروں میں نہ صرف قابل ہوں گے
    بلکہ پسند بھی کئے جائیں گے۔
  • 11:10 - 11:13
    اور یہ اتنا با اثر ہے
  • 11:13 - 11:15
    یہ تب بھی اثر کرتا ہے
    چاہے آپ کو معلوم ہو کہ یہ ہو رہا ہے۔
  • 11:15 - 11:20
    زندگی میں کئی دفعہ ایسا ہوا جب
    مجھے پہلے سے بتایا گیا
  • 11:20 - 11:24
    کہ ایک کم طاقت کے آدمی کو کہا گیا ہے کہ
    وہ واپس میرے پاس آ کر مشورہ لے۔
  • 11:24 - 11:27
    میں چاہتا ہوں آپ اس بارے میں
    تین باتوں پر غور کریں:
  • 11:27 - 11:30
    پہلی، مجھے معلوم ہے کہ وہ
    مجھ سے آ کر رائے لیں گے۔
  • 11:30 - 11:34
    دوسری، میں نے واقعی تحقیق کی ہے
    تزویراتی فوائد پر
  • 11:34 - 11:36
    مشورہ لینے کے۔
  • 11:36 - 11:38
    تیسری، پھر بھی یہ کا کر گئی!
  • 11:38 - 11:40
    میں نے ان کا نقطہ نظر اپنایا،
  • 11:40 - 11:42
    اور میں ان کے مقصد کو زیادہ سمجھا،
  • 11:42 - 11:46
    اور میں ان کا زیادہ ہمدرد بن گیا
    کیونکہ انہوں نے مجھ سے مشورہ لیا تھا۔
  • 11:46 - 11:50
    اب، ایک اور وقت جب ہم زیادہ خود اعتماد
    محسوس کرتے ہیں آواز اٹھانے میں
  • 11:50 - 11:52
    وہ ہے جب ہمارے پاس مہارت ہوتی ہے۔
  • 11:52 - 11:54
    مہارت ہماری ساکھ بناتی ہے۔
  • 11:55 - 11:58
    جب ہمارے پاس زیادہ طاقت ہوتی ہے تو
    ہماری ساکھ پہلے ہی ہوتی ہے۔
  • 11:58 - 12:00
    ہمیں صرف اچھے ثبوت کی
    ضرورت ہوتی ہے۔
  • 12:00 - 12:03
    جب ہماری طاقت کم ہوتی ہے
    ہماری ساکھ بھی نہیں ہوتی۔
  • 12:03 - 12:05
    ہمیں بہترین ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔
  • 12:05 - 12:09
    اور ایک طریقہ جس سے ہم ماہر
    کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں
  • 12:09 - 12:11
    وہ اپنی کششِ قلبی کو دریافت کرنا ہے۔
  • 12:12 - 12:16
    میں چاہتا ہوں کہ آپ سب لوگ اگلے کچھ دنوں
    میں اپنے دوست کے پاس جائیں
  • 12:16 - 12:17
    اور ان سے کہیں،
  • 12:17 - 12:21
    "میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے کسی ایک
    پسندیدہ کام کے بارے میں مجھے بتائیں۔"
  • 12:21 - 12:23
    میں نے یہ تجربہ ساری دنیا میں کیا ہے
  • 12:23 - 12:25
    اور میں نے ان سے پوچھا ہے،
  • 12:25 - 12:27
    "آپ نے دوسرے شخص کے بارے میں کیا جانا
  • 12:27 - 12:29
    جب وہ اپنے پسندیدہ کام کے بارے
    میں بتا رہے تھے؟"
  • 12:29 - 12:31
    اور جواب ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔
  • 12:31 - 12:34
    " ان کی آنکھوں میں چمک آجاتی ہے
    اور وہ بڑی ہو جاتی ہیں۔"
  • 12:34 - 12:36
    اور وہ سرشاری سے مسکرانے لگتے ہیں۔"
  • 12:36 - 12:38
    "وہ اپنے ہاتھوں کے استعمال سے بتاتے ہیں
  • 12:38 - 12:40
    مجھے جھکنا پڑا کیونکہ ان کے
    ہاتھ مجھ تک آرہے تھے۔"
  • 12:40 - 12:42
    "وہ تیزی سے اونچی آواز
    میں بات کرتے ہیں"۔
  • 12:42 - 12:43
    (قہقہے)
  • 12:43 - 12:46
    وہ آگے جھکے جیسے مجھے
    کوئی راز بتا رہے ہوں۔"
  • 12:46 - 12:47
    اور پھر میں نے ان سے کہا،
  • 12:47 - 12:50
    " آپ کو کیسا لگا جب وہ اپنے
    پسندیدہ کام کا بتا رہے تھے؟"
  • 12:50 - 12:53
    انھوں نے کہا "میری آنکھیں چمک اٹھیں۔
  • 12:53 - 12:54
    میں مسکرایا۔
  • 12:54 - 12:55
    میں جھکا"۔
  • 12:55 - 12:57
    جب ہم اپنی کششِ قلبی کو پا لیتے ہیں،
  • 12:57 - 13:01
    ہم اپنے آپ کو ہمت دیتے ہیں، اپنی
    نظروں میں، آواز اٹھانے کی،
  • 13:01 - 13:04
    اور ہمیں دوسروں کی اجازت بھی
    ملتی ہے آواز اٹھانے کے لئے۔
  • 13:05 - 13:10
    کششِ قلبی کو پانا تب بھی کام آتا ہے
    جب ہم کمزور کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
  • 13:11 - 13:15
    عورت اور مرد دونوں کو سزا ملتی ہے
    جب وہ اپنے کام میں آنسو بہاتے ہیں۔
  • 13:15 - 13:22
    لیکن لزلی ولف نے بتایا کہ جب ہم اپنے
    جذبات کو اپنی کششِ قلبی کے ساتھ ملاتے ہیں،
  • 13:22 - 13:28
    عورتوں اور مردوں دونوں میں اپنے کام
    کو برا بھلا کہنا غائب ہو جاتا ہے۔
  • 13:29 - 13:32
    میں اپنے مرحوم باپ کے الفاظ
    کے ساتھ گفتگو ختم کرنا چاہوں گا
  • 13:32 - 13:35
    جو انہوں نے میرے جڑواں بھائی کی شادی
    کے موقع پر کہے تھے۔
  • 13:35 - 13:37
    یہ ہماری ایک تصویر ہے۔
  • 13:38 - 13:40
    میرے والد میری طرح نفسیاتی معالج تھے،
  • 13:40 - 13:44
    لیکن انکا اصلی پیار اور
    جذبہ سنیما کے لئے تھا،
  • 13:44 - 13:45
    میرے بھائی کی طرح۔
  • 13:45 - 13:47
    تو انہوں نے میرے بھائی کی
    شادی کی لئے ایک تقریر لکھی
  • 13:48 - 13:51
    ان کرداروں کے بارے میں جو ہم اس
    انسانی مزاحیہ کھیل میں نبھاتے ہیں۔
  • 13:51 - 13:53
    اور انہوں نے کہا "کہ جتنے
    ہم پر سکون ہوتے ہیں،
  • 13:53 - 13:57
    اتنا ہی اپنے کردار کو
    بہتر نبھا سکتے ہیں۔
  • 13:57 - 14:01
    اور جو اپنے کرداروں کو قبول کر لیتے ہیں
    اور اس کی بہتری کے لئے کام کرتے ہیں
  • 14:02 - 14:05
    ترقی کرتے ہیں، بدلتے ہیں اور بڑھتے ہیں۔
  • 14:05 - 14:06
    اچھی طرح کردار نبھاو،
  • 14:06 - 14:09
    اور تمہارے دن زیادہ تر
    خوشیوں سے بھرے ہوں گے۔"
  • 14:09 - 14:11
    میرے والد یہ کہہ رہے تھے
  • 14:11 - 14:15
    کہ ہم سب کو اس دنیا میں مختلف حدود
    اور کردار دیے گئے ہیں۔
  • 14:15 - 14:19
    اور وہ اس گفتگو کا مرکزی خیال
    بھی بتارہے تھے:
  • 14:19 - 14:24
    کہ یہ کردار اور حدود مستقل پھیل رہی ہیں
    اور بڑھ رہی ہیں۔
  • 14:25 - 14:27
    تو موقع کی مناسبت سے،
  • 14:27 - 14:29
    تو آپ نڈر ماما بھالو بن جائیں
  • 14:29 - 14:31
    اور ایک عاجز رائے مانگنے والا۔
  • 14:32 - 14:36
    بہترین رائے لیں اور اچھے اتحادی بنائیں۔
  • 14:36 - 14:38
    جذبہ سے بھرپور نقطہ نظر اپنانے والا بنیں۔
  • 14:39 - 14:40
    اور اگر آپ یہ طریقے استعمال کریں --
  • 14:41 - 14:44
    اور آپ میں سے ہر کوئی یہ
    طریقے استعمال کرسکتا ہے --
  • 14:44 - 14:48
    تو آپ اپنی حدود اور
    قابل قبول رویہ بڑھا سکتے ہیں،
  • 14:48 - 14:52
    اور آپکے دن زیادہ تر
    خوشیوں سے بھرپور ہوں گے۔
  • 14:52 - 14:53
    شکریہ۔
  • 14:53 - 14:56
    (تالیاں)
Title:
اپنے لئے کیسے آواز اٹھائیں
Speaker:
آدم گیلنسکی
Description:

آواز اٹھانا مشکل کام ہے، چاہے آپ جانتے ہوں کہ یہ ضروری ہے۔ اپنے آپ کو کیسے منوانا ہے، مشکل سماجی حالات سے کیسے نکلنا ہے اور اپنی ذات کو کیسے ترقی کے راستے پہ چلانا ہے۔ نفسیاتی معالج آدم گیلنسکی کی رہنمائی کے مطابق۔

more » « less
Video Language:
English
Team:
TED
Project:
TEDTalks
Duration:
15:08

Urdu subtitles

Revisions