Urdu subtitles

پلاسٹک کی مختصر تاریخ

Get Embed Code
32 Languages

Showing Revision 13 created 09/25/2020 by Umar Anjum.

  1. آج کل ہر جگہ پلاسٹکس ہیں۔
  2. اس تمام پلاسٹک کی ابتدا
    ایک چھوٹی سی چیز سے ہوئی—
  3. جو خود پلاسٹک سے نہیں بنی ہوئی۔
  4. صدیوں سے، بلیرڈ کی گیندیں ہاتھی
    کے دانتوں سے بنتی تھیں۔

  5. لیکن جب ضرورت سے زیادہ شکار کے
    سبب ہاتھیوں کی آبادی کم ہوئی
  6. انیسویں صدی میں،
  7. بلیرڈ بال بنانے والوں نے بھاری انعامات کی
    پیشکش کرتے ہوئے متبادل کی تلاش شروع کی۔
  8. چنانچہ 1863 میں جان ویزلی ہائٹ نامی
    ایک امریکی نے اس چیلنج کو قبول کیا۔
  9. اگلے پانچ سالوں میں، اس نے سیلولوئڈ
    نامی ایک نیا مادہ ایجاد کیا،
  10. سیلولوز کا بنا ہوا، ایک مرکب
    جو لکڑی اور بھوسے میں پایا جاتا ہے۔
  11. ہائٹ کو جلد ہی پتا چلا کہ سیلولوئڈ
    بلیرڈ بال کے مسئلے کو حل نہیں کرسکتا––

  12. مادہ اتنا بھاری نہیں تھا اور
    ٹھیک سے نہیں اچھلتا تھا۔
  13. لیکن اس کو رنگ اور نقش دیے جا سکتے تھے
  14. زیادہ مہنگے مواد کی نقل کے
    طور پر جیسے مرجان،
  15. کچھوے کا خول، عنبر اور سیپ کا موتی۔
  16. اس نے وہ چیز بنائی جسے سب سے
    پہلا پلاسٹک کہا جاتا ہے۔
  17. لفظ پلاسٹک کسی بھی مادے کی وضاحت
    کر سکتا ہے جو پولیمرز کا بنا ہو،

  18. جو کہ صرف بڑے مالیکیوز ہیں
    جو ایک ہی ذیلی جزو کے دہرانے سے بنتے ہیں۔
  19. اس میں انسان کے بنائے
    ہوئے تمام پلاسٹکس شامل ہیں،
  20. اور جانداروں میں پائے جانے
    والے بہت سے مادے بھی۔
  21. لیکن عام طور پر، جب لوگ
    پلاسٹکس کی بات کرتے ہیں،
  22. ان کا مطلب مصنوعی مادے ہوتے ہیں۔
  23. ان سب کی یکساں خصوصیت یہ ہے
    کہ یہ شروع میں نرم اور لچک دار ہوتے ہیں
  24. اور کسی بھی خاص شکل میں ڈھالے جاسکتے ہیں۔
  25. سب سے پہلا مستند پلاسٹک ہونے کے باوجود،

  26. سیلولوئڈ انتہائی آتش گیر تھا،
    جس کی پیداوار میں خطرہ تھا۔
  27. لہذا موجدین نے متبادلات کی تلاش شروع کی۔
  28. 1907 میں ایک کیمیا دان نے فینول کو ملایا—
  29. جو کہ تارکول کا فضلہ ہے—
  30. فارملڈہائڈ سے، جس سے ایک نیا مضبوط
    پولیمر بنا جسے بیکیلائٹ کہتے ہیں۔
  31. بیکیلائٹ سیلولوئڈ سے
    کم آتش گیر تھا اور خام مال
  32. جو اسے بنانے کے لیے استعمال ہوتا تھا
    وہ زیادہ آسانی سے دستیاب تھا۔
  33. بیکیلائٹ صرف شروعات تھی۔

  34. 1920ء کی دہائی میں، محققین نے پہلی مرتبہ
    تجارتی طور پر پولی سٹائرین تیار کی،
  35. ایک نرم پلاسٹک جسے انسولیشن
    میں استعمال کیا جاتا ہے۔
  36. اس کے بعد جلد ہی پولی وینائل کلورائڈ یا
    وینائل آیا، جو لچکدار تھا لیکن مضبوط بھی۔
  37. ایکریلیکس نے بنائے شفاف،
  38. ناقابِل ریخت پینل جو شیشے سے
    متشابہت رکھتے تھے۔
  39. اور 1930ء کی دہائی میں نائلن
    کو مرکزی حیثیت ملی—
  40. ایک پولیمر جو ریشم کی نقل کے طور پر بنا،
    لیکن اس کی طاقت اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔
  41. 1933 سے، پولی اتھائلین سب سے کثیرالاستعمال
    پلاسٹکس میں سے ایک بنا،
  42. ابھی تک ہر چیز بنانے میں استعمال ہوتا ہے
    سامان کے تھیلوں، شیمپو کی بوتلوں سے لے کر
  43. بلٹ پروف جیکٹ تک۔
  44. نئی صنعتی ٹیکنالوجیز مواد کے
    اس بڑھاؤ کے ہمراہ رہیں۔

  45. ٹیکنالوجی کی ایک ایجاد نے جسے
    انجکشن سانچہ سازی کہا جاتا ہے
  46. یہ ممکن بنایا کہ پگھلے ہوئے پلاسٹکس کو کسی
    بھی شکل کے سانچوں میں ڈھالا جائے،
  47. جہاں وہ تیزی سے سخت ہوجائیں.
  48. اس سے نئی اقسام اور شکلوں کی
    مصنوعات بنانا ممکن ہوا—
  49. اور طریقہ ملا کم قیمت میں اور تیزی سے
    پلاسٹکس تھوک میں تیار کرنے کا۔
  50. سائنسدانوں کو امید تھی کہ یہ کم خرچ مادہ
  51. ان اشیاء کو لوگوں کے لیے دستیاب کرے گا جن
    کو خریدنے کی وہ پہلے طاقت نہیں رکھتے تھے۔
  52. اس کے بجائے، پلاسٹکس سے دوسری
    جنگ عظیم میں کام لیا گیا۔

  53. جنگ کے دوران، امریکہ میں پلاسٹکس
    کی پیداوار چار گنا بڑھ گئی۔
  54. فوجیوں نے نئے پلاسٹک ہیلمیٹ لائنرز
    اور آب روک ونائل کی برساتیاں پہنیں۔
  55. پائلٹ پلیگزی گلاس کے بنے کاک پٹس میں
    بیٹھے، جو ایک ناقابِل ریخت پلاسٹک ہے،
  56. اور انحصار کیا مضبوط نائلن
    کے بنے پیراشوٹوں پر۔
  57. اس کے بعد، پلاسٹک بنانے والے ادارے

  58. جو جنگ کے دوران بنی تھیں، انھوں نے
    اپنی توجہ اشیاء صرف کی طرف پھیری۔
  59. پلاسٹکس نے دوسری چیزوں کی جگہ لینی
    شروع کی جیسے کہ لکڑی، شیشہ اور کپڑا
  60. فرنیچر، لباس، جوتوں،
    ٹیلیوژنز اور ریڈیوز میں۔
  61. کثیرالاستعمال پلاسٹکس نے ممکنات
    پیدا کیں پیکنگ کے لیے—
  62. جو خاص کر خوراک اور دیگر مصنوعات کو زیادہ
    دیر تک تازہ رکھنے کے لئے بنائے گئے تھے۔
  63. یکایک، کچرے کے لیے پلاسٹک کے تھیلے،
    لچکدار پلاسٹک کے غلاف،
  64. نچوڑنے کے قابل پلاسٹک کی بوتلیں،
    لے جانے والے ڈبے،
  65. اور پھل، سبزیوں اور گوشت کے
    لیے پلاسٹک کے ڈبے تھے۔
  66. صرف چند دہائیوں میں،
    مختلف خصوصیات کے اس مادے نے

  67. اسے شروع کیا جسے "پلاسٹکس کی صدی"
    کے نام سے جانا جاتا ہے۔
  68. جب کہ پلاسٹکس کی صدی
    سہولت اور بچت لے کر آئی،
  69. ساتھ ہی اس نے بھاری ماحولیاتی
    مسائل بھی پیدا کئے۔
  70. بہت سارے پلاسٹکس ناقابل تجدید
    وسائل سے بنے ہوتے ہیں۔
  71. اور پلاسٹک پیکنگ کو ایک دفعہ
    استعمال کے لئے بنایا گیا تھا،
  72. لیکن کچھ پلاسٹکس کو بوسیدہ ہونے میں
    صدیاں لگتی ہیں،
  73. جس سے بہت زیادہ فضلہ جمع ہوتا ہے۔
  74. اس صدی میں ہمیں اپنی ایجادات کو ان مسائل
    کے حل پر مرکوز کرنا پڑے گا—

  75. پلاسٹک کے استعمال کو کم کر کے، قدرتی طور
    پر گل سڑ جانے والے پلاسٹکس تیار کر کے،
  76. اور موجودہ پلاسٹک کو دوبارہ استعمال
    کرنے کے نئے طریقے تلاش کر کے۔