Urdu subtitles

بہادر لڑکیاں پروان چڑھانے کے لیے، مہم جوئی کی حوصلہ افزائی کریں

Get Embed Code
41 Languages

Showing Revision 71 created 03/31/2017 by Umar Anjum.

  1. جب میں بچی تھی، تو مجھے گینیز بک آف
    ورلڈ ریکارڈ کا جنون کی حد تک شوق تھا،
  2. اورمیری خواہش تھی کہ میں خود بھی
    ایک ریکارڈ بناؤں۔
  3. لیکن ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا:
  4. مجھ میں کوئی ذہانت تھی ہی نہیں۔
  5. تو میں نے کسی ایسی چیز میں
    ریکارڈ بنانے کا فیصلہ کیا
  6. جس میں کسی مہارت کی بالکل ضرورت نہ ہو۔
  7. میں نے ایسا ریکارڈ بنانے کا فیصلہ کیا
  8. جس میں گھٹنوں کے بل چلنا ہو۔
  9. (قہقہے)

  10. اس وقت گھٹنوں کے بل چل کرسب سے زیادہ فاصلہ
    طے کرنے کا ریکارڈ ساڑھے بارہ میل تھا،

  11. اور شاید کسی وجہ سے مجھے لگا،
    کہ میں یہ کر سکتی ہوں۔
  12. (قہقہے)

  13. میں نے اپنی سہیلی این کو ساتھ ملایا،

  14. اور ہم نے اکٹھے فیصلہ کیا کہ ہمیں تو
    تربیت کی بھی ضرورت نہیں۔
  15. (قہقہے)

  16. اور جس دن ہم نے ریکارڈ بنانا تھا،

  17. ہم نے اپنی خوش بخت جینز کے اوپر
    فرنیچر کا فوم باندھا
  18. اور شروع ہو گئے،
  19. اور اُسی وقت ہماری مشکل شروع ہو گئی،
  20. کیوں کہ جینز کا کپڑا ہماری جلد کے ساتھ تھا
  21. اور اس سے ہماری جلد رگڑنے لگی،
  22. اور جلد ہی ہمارے گھٹنے چھِل چکے تھے۔
  23. گھنٹوں بعد،
  24. بارش شروع ہو گئی۔
  25. پھر، این نے حوصلہ ہار دیا۔
  26. پھر، اندھیرا چھا گیا۔
  27. اس وقت تک میرے گھٹنوں سے خون
    جینز کے باہر آنے لگا،
  28. میرے حواس ٹھنڈ، تکلیف
  29. اور یکسانیت سے معطل ہو رہے تھے۔
  30. اپنے شوق کی وجہ سے میں جس تکلیف میں مبتلا
    تھی اس کا اندازہ یوں لگائیے،
  31. ہائی سکول کی روش کے پہلے چکر میں
    10 منٹ لگے۔
  32. اور آخری چکر تقریباً 30 منٹ میں مکمل ہوا۔
  33. 12 گھنٹے گھٹنوں کے بل چلنے کے بعد،

  34. میں رک گئی،
  35. اور میں نے ساڑھے آٹھ میل فاصلہ طے کیا تھا۔
  36. اس کا مطلب ہے کہ میں ساڑھے بارہ میل فاصلے
    کے ریکارڈ سے پیچھے تھی۔
  37. اس وجہ سے کئی سال تک میں یہی سوچتی رہی کہ
    یہ انتہائی ناکامی کی کہانی ہے،

  38. لیکن آج میں اس کو مختلف انداز سے
    دیکھتی ہوں،
  39. کیونکہ جب میں ورلڈ ڑیکارڈ بنانے کی
    کوشش کر رہی تھی،
  40. تو میں تین چیزیں کر رہی تھی،
  41. میں اپنے روزمرہ کے معمول سے ہٹ رہی تھی،
  42. میں اپنی سختی کا امتحان لے رہی تھی،
  43. اور میرا اپنی ذات پر اعتماد بڑھ رہا تھا
  44. اور اپنے فیصلوں پر بھی۔
  45. مجھے تب اس کا علم نہیں تھا،
  46. لیکن یہ ناکامی کی نشانیاں نہیں ہیں۔
  47. یہ بہادری کی علامات ہیں۔
  48. پھر، 1989 میں، 26 سال کی عمر میں،

  49. میں سان فرانسسکو میں
    آگ بجھانے والی بن گئی،

  50. اور میں 1500 آدمیوں کے محکمے میں
    پندرہویں خاتون تھی۔

  51. (تالیاں)

  52. اورجیسا کہ آپ سوچ سکتے ہیں، جب میں پہنچی

  53. تومیرے ذہن میں شکوک تھے کہ ہم یہ کام
    کر سکتی ہیں یا نہیں۔
  54. تو اگرچہ میں 5 فٹ 10 انچ لمبی اور 150
    پاؤنڈ وزنی اپنے کالج کی کشتی ران تھی،
  55. اور ایسی خاتون تھی جس نے 12 گھنٹے شدید
    گھٹنے کا درد برداشت کیا تھا --
  56. (قہقہے)

  57. مجھے پتہ تھا کہ پھر بھی مجھے اپنی طاقت اور
    تندرستی ثابت کرنی تھی۔

  58. پھر ایک دن آگ لگنے کی اطلاع آئی،

  59. اور یقینی طور پر جب ہماری
    آگ بجھانے والی گاڑی رکی،
  60. تو عمارت کی پچھلی طرف سے کالا سیاہ
    دھواں باہر آرہا تھا۔
  61. اور میں ایک بڑے سے آدمی سکِپ کے ساتھ تھی،
  62. اس کے ہاتھ میں پریشر والا پائپ تھا اور
    میں اسکے پیچھے تھی،
  63. اور یہ ایک عام طور پر لگنے والی آگ تھی۔
  64. ہر طرف دھواں تھا، تپش تھی،
  65. اور اچانک،
  66. ایک دھماکہ ہوا،
  67. اور سکِپ اور میں پیچھے جا گرے،
  68. میرا ماسک ایک طرف ہٹ گیا،
  69. اور یہ ایک غیر یقینی صورتحال تھی۔
  70. اور پھر میں نے خود کو اٹھایا،
  71. پریشر والا پائپ پکڑا،
  72. اور وہ کیا جو ایک آگ بجھانے والے کو
    کرنا چاہیے تھا:
  73. میں آگے بڑھی،
  74. پانی کھولا
  75. اور آگ کو بجھا دیا۔
  76. دھماکے کی وجہ پانی گرم کرنے والا ہیٹر تھا،
  77. اس لیے کوئی زخمی نہ ہوا،
    نتیجتاً یہ کوئی بڑی بات نہ تھی،
  78. لیکن بعد میں سکِپ میرے پاس آیا اور بولا،
  79. "بہت زبردست کام کیا تم نے کیرولائن"،
  80. اس کی آواز میں ایک حیرت تھی۔
  81. (قہقہے)

  82. مجھے بات کچھ سمجھ نہ آئی، کیونکہ آگ بجھانے
    میں زیادہ مشکل نہیں ہوئی تھی،

  83. تو وہ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہا تھا
    جیسے میں نے کوئی کارنامہ کیا ہو؟
  84. بعد میں سب واضح ہو گیا:
  85. سکِپ، جو کہ ایک بہت اچھا انسان تھا،
  86. اور ایک زبردست آگ بجھانے والا،
  87. اس کے خیال میں خواتین نہ تو
    مضبوط ہو سکتی ہیں،
  88. اور نہ ہی بہادر۔
  89. اور وہ اس سوچ میں اکیلا نہیں تھا۔
  90. دوست، شناسا، اور اجنبی،
  91. مرد و خواتین میری پیشہ ورانہ زندگی
    کے دوران
  92. بار بار مجھ سے پوچھتے رہے،
  93. "کیرولائن، اتنی آگ اور اتنے خطرے میں،
  94. کیا تمہیں ڈر نہیں لگتا؟"
  95. ایمانداری سے میں نے کبھی نہیں سنا کہ کسی
    مرد آگ بجھانے والے سے یہ پوچھا گیا ہو۔
  96. اور مجھ میں تجسس پیدا ہوا۔
  97. کہ خواتین سے بہادری کی توقع کیوں
    نہیں کی جاتی؟
  98. پھر مجھے اس کا جواب ملنا شروع ہوا

  99. جب ایک دوست نے مجھ سے شکوہ کیا
  100. کہ اس کی نوعمر بیٹی بہت ڈرپوک ہے،
  101. یوں میں نے توجہ دینی شروع کی،
  102. اور ہاں اس کی بیٹی جلدی پریشان ہو جاتی تھی
  103. لیکن اس سے زیادہ،
    اس کے والدین پریشان ہوتے تھے۔
  104. جب بھی وہ باہر ہوتی تھی تو زیادہ تر ان
    کی بات یوں شروع ہوتی تھی،
  105. "محتاط رہنا"، "دھیان سے" یا "نہیں"۔
  106. لیکن میرے دوست برے والدین نہیں تھے۔
  107. وہ صرف وہی کر رہے تھے جو زیادہ تر والدین
    کرتے ہیں۔
  108. اپنی بیٹیوں کو اپنے بیٹوں کی نسبت
    زیادہ ڈراتے رہتے ہیں۔
  109. کھیل کے میدان میں لگائے جانے والے فائر پول
    (جھولے) پر ایک تحقیق کی گئی، عجیب بات ہے،

  110. اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ننھی
    بچیوں کو ان کے ماں باپ
  111. زیادہ خبردار کرتے تھے کہ وہ
    فائر پول جھولتے وقت محتاط رہیں،
  112. اور اگر ننھی بچیاں پھر بھی فائر پول جھولے
    سے کھیلنا چاہیں، تو امکان ہے کہ
  113. ان کے والدین میں سے کوئی ان کے ساتھ ہو گا۔
  114. لیکن ننھے لڑکے؟
  115. ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی کہ وہ
    فائر پول جھولے سے کھیلیں
  116. باوجود ان کے اپنے خدشات کے،
  117. بلکہ والدین ننھے لڑکوں کی رہنمائی کرتے تھے
    کہ اسے خود سے کیسے جھولا جائے۔
  118. اس رویے سے لڑکوں اور لڑکیوں کو کیا پیغام
    دیا جاتا ہے؟
  119. واضح ہے، کہ لڑکیاں کمزور ہوتی ہیں اور
    انھیں مدد کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے،
  120. اور لڑکے مشکل کام کر سکتے ہیں اور انھیں یہ
    مشکل کام خود کرنے چاہیں۔
  121. یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ لڑکیوں کو ڈرتے
    رہنا چاہیے
  122. اور لڑکوں کو باہمت ہونا چاہیے۔
  123. مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اتنی کم عمری میں،

  124. لڑکے اور لڑکیاں جسمانی طور پر
    ایک جیسے ہوتے ہیں۔
  125. درحقیقت، بلوغت تک لڑکیاں زیادہ طاقتور
    ہوتی ہیں،
  126. اور زیادہ سمجھدار۔
  127. پھر بھی ہم بڑے ایسے پیش آتے ہیں
  128. جیسے لڑکیاں زیادہ کمزور ہوں،
  129. اورانھیں مدد کی زیادہ ضرورت ہو،
  130. اور وہ حالات کا مقابلہ نہ کر سکتی ہوں۔
  131. یہ وہ پیغام ہے جو ہم اپنے بچپن سے سنتے
    چلے آتے ہیں،
  132. اور بڑے ہوتے ہوتے ہم اسی پیغام کے
    مکمل زیرِاثر ہو جاتے ہیں۔
  133. ہم خواتین اور مرد اس پر یقین رکھتے ہیں،
  134. اور ذرا اندازہ لگائیں؟
  135. جب ہم خود والدین بنتے ہیں، تو ہم اپنے
    بچوں کو بھی یہی پیغام دیتے ہیں،
  136. اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
  137. خیر، اب مجھے میرا جواب مل چکا تھا۔

  138. یہی وجہ ہے کہ خواتین، حتیٰ کہ آگ بجھانے
    والی خواتین کے
  139. متعلق بھی یہی سوچا جاتا ہے کہ وہ
    ڈرپوک ہوں گی۔
  140. یہی وجہ ہے کہ خواتین اکثر ڈری رہتی ہیں۔
  141. میں جانتی ہوں کہ آپ میں سے کچھ اس بات کو
    تسلیم نہیں کریں گے جب میں کہوں گی،

  142. کہ میں ڈر کے خلاف نہیں ہوں۔
  143. میں جانتی ہوں کہ یہ ایک اہم احساس ہے،
    اور اس کی وجہ سے ہم محفوظ رہتے ہیں۔
  144. لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب خوف بنیادی احساس
    بن جائے
  145. اور ہم اپنی بیٹیوں کو یہ سکھائیں کہ وہ
  146. ڈریں جب بھی وہ کسی ان دیکھی صورتحال کا
    سامنا کریں۔
  147. میں کافی سالوں تک ایک پیرا گلائیڈر پائلٹ
    تھی ۔۔

  148. (تالیاں)

  149. اور پیرا گلائیڈر ایک پیرا شوٹ کا
    پر ہوتا ہے

  150. اور یہ بہت اچھا اُڑتا ہے،
  151. لیکن مجھے احساس ہوا کہ بہت سے لوگوں کو
    یہ ایک چادر لگتی ہے
  152. جس کے ساتھ رسیاں بندھی ہوں۔
  153. (قہقہے)

  154. اور میں بہت سا وقت پہاڑوں کی چوٹیوں پر
    گزارتی ہوں

  155. اس چادر کو پھیلا کر،
  156. بھاگ کر اور اڑتے ہوئے۔
  157. مجھے پتہ ہے آپ کیا سوچ رہے ہیں۔
  158. آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیرولائن، تھوڑا سا
    تو ڈرنا چاہیے۔
  159. اور آپ ٹھیک ہیں، ڈرنا چاہیے۔
  160. میں آپ کو یقین دلاتی ہوں، مجھے بھی ڈر
    لگتا ہے۔
  161. لیکن اس پہاڑی چوٹی پر،
  162. موافق ہوا کے آنے کا انتظار کرتے ہوئے،
  163. میں نے اور بہت سی چیزیں محسوس کیں:
  164. بے پناہ خوشی، خود اعتمادی۔
  165. مجھے پتہ تھا میں ایک اچھی پائلٹ ہوں۔
  166. مجھے علم تھا، حالات سازگار ہیں، ورنہ
    میں وہاں نہ ہوتی۔
  167. مجھے علم تھا کہ 1000 فٹ اوپر ہوا میں ہونے
    کا احساس کیسا ہوتا ہے۔
  168. تو ہاں، ڈر بھی تھا،
  169. لیکن میں اس پر ایک گہری نظر ڈالتی،
  170. اورسوچتی کہ اس حالت میں ڈر کی کتنی جگہ
    بنتی ہے
  171. اور پھر اس ڈر کو پس پشت ڈال دیتی،
  172. جو کہ اکثر
  173. میری بے پناہ خوشی، میری توقعات
  174. اور میرےاعتماد کے پیچھے چھپ جاتا۔
  175. تو میں ڈر کے خلاف نہیں ہوں۔
  176. میں بس بہادری کے حق میں ہوں۔
  177. اس کا یہ مطلب نہیں کہ لڑکیوں کو ضرور
    آگ بجھانے والی بننا چاہیے

  178. یا پھر پیرا گلائیڈر بننا چاہیے،
  179. کہنا میں یہ چاہ رہی ہوں کہ ہماری پرورش
    لڑکیوں کو نازک مزاج اور مجبور بنا رہی ہے۔
  180. اور اس کی شروعات تب ہوتی ہے جب ہمیں انھیں
    جسمانی خطرے کے خلاف ڈراتے ہیں۔
  181. یہ ڈر جو ہم سیکھتی ہیں اور
    تجربات جن سے ہم نہیں گزرتیں،
  182. عورت بننے تک ہمارے ساتھ رہتے ہیں
  183. ان تمام چیزوں کی شکل اختیار کرتے ہیں جن کا
    کا ہم سامنا کرتی ہیں اور پیچھا چھڑاتی ہیں:
  184. بولتے وقت ہماری جھجھک،
  185. اپنی خواہش مارنا تاکہ ہمیں پسند کیا جائے
  186. اور ہمارے اپنے فیصلوں میں
    اعتماد کی کمی۔
  187. تو ہم بہادر کیسے بنتے ہیں؟

  188. یہاں آپ کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔
  189. بہادری سیکھی جاتی ہے
  190. اور ہر سیکھی جانے والی
    چیز کی طرح،
  191. اس کی مشق ضروری ہے۔
  192. سب سے پہلے،
  193. ہمیں ایک گہرا سانس لینا چاہیے
  194. اور لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے
  195. کہ سکیٹ بورڈ کریں اور درختوں پر چڑھیں
  196. اور فائر پول جھولے پر جھولیں۔
  197. اور یہی سب میری والدہ نے بھی کیا۔
  198. انھیں اس وقت یہ نہیں پتہ تھا،
  199. لیکن محقیقین نے اس کا ایک نام بھی رکھا ہے۔
  200. وہ اسے خطروں سے کھیلنا کہتے ہیں،
  201. اور تحقیق یہ کہتی ہے کہ خطرات سے کھیلنا
    تمام بچوں کے لیے بہت اہم ہے،
  202. کیوں کہ اس سے خطرات کا اندازہ لگانے کا
    سبق ملتا ہے،
  203. اس سے لمبے عرصے تک رہنے والی خوشی ملتی ہے،
  204. اس سے ہم اپنے اندر ہمت پیدا کرتے ہیں،
  205. یہ خود اعتمادی سکھاتا ہے۔
  206. دوسرے الفاظ میں،
  207. جب بچے باہر جاتے ہیں اور
    بہادری کی مشق کرتے ہیں،
  208. وہ زندگی کے قیمتی گُر سیکھتے ہیں۔
  209. دوسرا، ہمیں بلاوجہ لڑکیوں کو ڈرانا
    بند کرنا چاہیے۔

  210. تو اگلی دفعہ جب بھی آپ یہ کہیں
  211. "خیال کرو، تم زخمی ہو جاؤ گی،"
  212. یا "یہ نہ کرو، یہ خطرناک ہے۔"
  213. یہ یاد رکھیں کہ اکثر آپ جو حقیقت میں
    اسے بتا رہے ہوتے ہیں
  214. وہ یہ ہوتا ہے کہ اسے زیادہ کوشش
    نہیں کرنی چاہیے,
  215. کہ وہ اتنی باصلاحیت نہیں ہے،
  216. کہ اسے ڈرنا چاہیے۔
  217. تیسرا،

  218. ہم عورتوں کو بھی بہادری کی
    مشق کرنی چاہیے
  219. ہم اپنی بیٹیوں کو تب تک نہیں سکھا سکتے
    جب تک ہم خود نہ سیکھیں۔
  220. ایک اور چیز یہ ہے کہ:
  221. ڈر اور بے پناہ خوشی
  222. ایک ہی جیسے محسوس ہوتے ہیں --
  223. کانپتے ہوئے ہاتھ
    دل کی تیز دھڑکن،
  224. پریشانی سے ہونے والا تناؤ،
  225. اور میں شرطیہ کہتی ہوں کہ
    آپ میں سے اکثر کو
  226. جب آخری بار لگا کہ آپ اپنی ہوشیاری سے
    خوفزدہ تھے،
  227. تو آپ اس وقت بے پناہ خوشی بھی
    محسوس کر سکتے تھے،
  228. لیکن آپ نے یہ موقع ضائع کر دیا۔
  229. تو مشق کیجیے۔
  230. اور جب لڑکیاں خوداعتمادی اور ہمت سیکھنے
    کے لیے باہر جا رہی ہوں،
  231. مجھے پتہ ہے بڑے درختوں یا ہوور بورڈز
    ہر نہیں چڑھنا چاہتے،
  232. تو ہم سب کو مشق کرنی چاہیے
  233. گھر پر، دفتر میں
  234. اوراس وقت یہاں بھی، کھڑے ہو کر ان لوگوں سے
  235. بات کرنے کی ہمت جو آپ کو پسند ہوں۔
  236. آخر میں، جب آپ کی بیٹی، مثال کے طور پر،

  237. اپنے سائیکل پر کسی ڈھلوان پہاڑی پر ہو
  238. اور وہ اصرار کرے کہ
    اسے نیچے جانے سے بہت ڈر لگ رہا ہے،
  239. اسے بہادر بننے میں مدد کریں۔
  240. شاید، وہ پہاڑی واقعی بہت ڈھلوان ہو،
  241. لیکن وہ اس نتیجے پر اپنی ہمت سے پہنچے گی
    نہ کہ ڈر کی وجہ سے۔
  242. کیونکہ اس کے سامنے ڈھلوان پہاڑی نہیں ہے۔
  243. اس کے سامنے ساری زندگی ہے
  244. اور اگر اس کے پاس ایسے طریقے ہوں
  245. جن سے وہ اس کا سامنا اور جانچ کر سکے
  246. اُن تمام خطرات کی، جن سے
    ہم اس کی حفاظت نہیں کر سکتے،
  247. یا وہ تمام کارِ دشوار جن کا سامنا کرنے
    کے لیے ہم اس کی رہنمائی نہیں کر سکیں گے،
  248. ہر وہ چیز جو یہاں موجود ہماری بیٹیاں
  249. اور پوری دنیا میں
  250. جن کا مستقبل میں سامنا کریں گی۔
  251. تو ویسے،

  252. گھٹنوں کے بل چلنے کا نیا ریکارڈ --
  253. (قہقہے)

  254. 35.18 میل ہے،

  255. اور مجھے انتہائی خوشی ہو گی کہ
    کوئی لڑکی اس ریکارڈ کو توڑ دے۔
  256. (تالیاں)